🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
389. مطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب بن هشام بن عبد مناف " ويقال: عبد المطلب، والصواب: المطلب، ومات بدمشق، وكان يسكن بها، فتوفي سنة إحدى وستين "
سیدنا مطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: عبدالمطلب، صحیح نام مطلب ہے؛ دمشق میں مقیم رہے اور وہیں اکسٹھ ہجری میں وفات پائی)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17808
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقَالَ: «مَا أَتَى بِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ؟ قَالَ: «مَا لَكَ وَلَهُمْ حَتَّى أَتَى بِكَ؟» قَالَ: يَلْقَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِوُجُوهٍ مُشْرِقَةٍ، فَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، فَغَضِبَ حَتَّى اسْتَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يُؤْذُونَنِي فِي الْعَبَّاسِ؟ فَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ»
سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصے کی حالت میں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا بات یہاں لے آئی؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں قریش سے کیا سلوک ملتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ان سے کیا واسطہ پیش آیا کہ تم یہاں چلے آئے؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ آپس میں ایک دوسرے سے خوش رو ہو کر ملتے ہیں، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس کے برعکس سلوک کرتے ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا حتیٰ کہ آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی رگ ابھر آئی، پھر جب غصہ اتر گیا تو فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے۔“ پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ عباس کے بارے میں مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں؟ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17808]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 285، حدیث 674»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17808 in Urdu