🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
389. مطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب بن هشام بن عبد مناف " ويقال: عبد المطلب، والصواب: المطلب، ومات بدمشق، وكان يسكن بها، فتوفي سنة إحدى وستين "
سیدنا مطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: عبدالمطلب، صحیح نام مطلب ہے؛ دمشق میں مقیم رہے اور وہیں اکسٹھ ہجری میں وفات پائی)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17809
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَتَى نَاسٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْ قَوْمٍ جَفَاءً، يَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ كَمِثْلِ نَخْلَةٍ نَبَتَتْ فِي كِبَاءٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَنَا؟» قَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - فَمَا سَمِعْنَاهُ يَنْتَمِي قَبْلَهَا - إِنَّ اللهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ خَلْقِهِ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ الْفِرْقَتَيْنِ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ بَيْتٍ، فَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا، وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا»
سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انصار کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کچھ لوگوں سے جفا کی بات سنتے ہیں، ان میں سے کہنے والا کہتا ہے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال تو صرف اس کھجور کے درخت جیسی ہے جو کوڑے کے ڈھیر میں اگ آیا ہو۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں کون ہوں؟“ لوگوں نے عرض کیا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں“ - راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے کبھی اس طرح نسب بیان کرتے نہیں سنا تھا - ”بےشک اللہ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے اس کی بہترین مخلوق میں رکھا، پھر انہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہتر گروہ میں رکھا، پھر انہیں قبیلوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان کے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر انہیں گھرانوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین گھرانے میں رکھا، پس میں تم سب میں گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور ذات کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17809]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 286، حدیث 675»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17809 in Urdu