سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. بَابُ: الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ
باب: قبر میں مردہ سے سوال و جواب۔
حدیث نمبر: 2052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا".
انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتیوں کی آواز سنتا ہے، (پھر) اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اسے بٹھاتے ہیں، (اور) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص (محمد) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو اس سے کہا جائے گا کہ تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں جنت میں ٹھکانا دیا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ ان دونوں (جنت و جہنم) کو ایک ساتھ دیکھے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2052]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے دفن کر کے واپس آ جاتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس دو فرشتے آ جاتے ہیں۔ وہ اسے بٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ مومن شخص تو کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے: تو اپنے جہنمی ٹھکانے کو دیکھ، اللہ تعالیٰ نے تجھے اس کے بجائے جنتی ٹھکانا دے دیا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة 17 (2870)، (تحفة الأشراف: 1300)، مسند احمد 3/126 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم