سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. بَابُ: مَسْأَلَةِ الْكَافِرِ
باب: قبر میں کافر و مشرک سے سوال و جواب۔
حدیث نمبر: 2053
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ , فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ , فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا خَيْرًا مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ , فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے، (پھر) دو فرشتے آتے ہیں، (اور) اسے بٹھاتے ہیں (پھر) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، (پھر) اس سے کہا جاتا ہے تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے بدلے ایک اچھا ٹھکانا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ ان دونوں (جنت و جہنم) کو ایک ساتھ دیکھتا ہے، اور رہا کافر یا منافق تو اس سے پوچھا جاتا ہے: اس شخص (محمد) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟، تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جائے گا: نہ تم نے خود جاننے کی کوشش کی، اور نہ جانکار لوگوں کی پیروی کی، پھر اس کے دونوں کانوں کے بیچ ایک ایسی مار ماری جاتی ہے کہ وہ ایسے زور کی چیخ مارتا ہے جسے انسان اور جنات کے علاوہ جو بھی اس کے قریب ہوتے ہیں سبھی سنتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2053]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میت کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے لوٹ کر جاتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس دو فرشتے آ جاتے ہیں۔ وہ اسے بٹھا لیتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تو اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟ مومن کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اسے کہا جاتا ہے: تو اپنے جہنمی ٹھکانے کو دیکھ، اللہ تعالیٰ نے تجھے اس کے بجائے اچھا ٹھکانا دے دیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے، لیکن کافر یا منافق سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں کچھ نہیں جانتا، جس طرح لوگ کہتے تھے، میں بھی کہتا تھا۔ اسے (فرشتوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے: نہ تو نے جاننے کی کوشش کی اور نہ تو نے قرآن پڑھا، پھر اس کے کانوں کے درمیان (یعنی اس کے چہرے پر) سخت ضرب لگائی جاتی ہے تو وہ اس قدر چیختا ہے کہ انسان و جن کے علاوہ ہر قریبی مخلوق اس کی آہ و بکا سنتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2051 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن