سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
115. بَابُ: التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
باب: عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2062
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من عذاب النار وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» ”اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کی آزمائش سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2062]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور آگ کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور زندگی و موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور (جھوٹے) مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15435)، صحیح البخاری/الجنائز 87 (1377)، مسند احمد 2/414، ویأتی عند المؤلف برقم: 5508 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2063
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2063]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 24 (585)، (تحفة الأشراف: 12284) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: یہودی عورت کے عذاب قبر کے ذکر کے بعد آپ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنی شروع کر دی تھی، دیکھئیے حدیث رقم: ۲۰۶۶۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2064
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْفِتْنَةَ الَّتِي يُفْتَنُ بِهَا الْمَرْءُ فِي قَبْرِهِ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي، أَيْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ؟ قَالَ:" قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے (اور) اس آزمائش کا ذکر کیا جس سے آدمی اپنی قبر میں دوچار ہوتا ہے، تو جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے ایک چیخ ماری جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھنے کے درمیان حائل ہو گئی، جب ان کی چیخ و پکار بند ہوئیں تو میں نے ایک شخص سے جو مجھ سے قریب تھا کہا: اللہ تجھے برکت دے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطاب کے آخر میں کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: (آپ نے فرمایا تھا:) ”مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی جو دجال کی آزمائش کے قریب قریب ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2064]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبے کے لیے) کھڑے ہوئے تو آپ نے اس آزمائش کا ذکر فرمایا جس میں ہر شخص کو قبر کے اندر مبتلا ہونا پڑے گا۔ جب آپ نے یہ ذکر فرمایا تو مسلمان آہ و بکا کرنے لگے حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہ سمجھ سکی۔ جب ان کی آہ و بکا کی آواز رک گئی تو میں نے ایک قریبی شخص سے کہا: اللہ تعالیٰ تیرے لیے برکت فرمائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ نے فرمایا تھا: ”مجھے وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری فتنۂ دجال جیسی آزمائش ہوگی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 24 (86)، والوضوء 37 (184)، والجمعة 29 (1053)، والکسوف 10 (1061)، والجنائز 86 (1373) مختصراً، والاعتصام 2 (7287)، (تحفة الأشراف: 15728)، صحیح مسلم/الکسوف 3 (905)، موطا امام مالک/الکسوف 2 (4)، مسند احمد 6/345، 354 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2065
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ , قُولُوا:" اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا انہیں اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے کہو: «اللہم إنا نعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں موت اور زندگی کی آزمائش سے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2065]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآن کی سورت کی طرح سکھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! ہم جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتے ہیں اور قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتے ہیں اور (جھوٹے) مسیح دجال کی آزمائش سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتے ہیں اور زندگی اور موت کے فتنے سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتے ہیں۔““ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (590)، سنن ابی داود/الصلاة 367 (1542)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3494)، (تحفة الأشراف: 5752)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3840)، موطا امام مالک/القرآن 8 (33)، مسند احمد 1/242، 258، 298، 311، ویأتي عند المؤلف برقم: 5514 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2066
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ , وَهِيَ تَقُولُ: إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ"، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ:" فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے پاس ایک یہودی عورت تھی، وہ کہہ رہی تھی کہ تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے، اور فرمایا: ”صرف یہودیوں ہی کی آزمائش ہو گی“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر ہم کئی رات ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر وحی آئی ہے کہ تمہیں (بھی) قبروں میں آزمایا جائے گا“، اس کے بعد سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنتی رہی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2066]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس ایک یہودی عورت بیٹھی تھی اور وہ کہہ رہی تھی کہ قبروں میں تمہارا امتحان لیا جائے گا (یا تمہیں عذاب ہوگا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور فرمایا: ”صرف یہود کو عذاب ہوگا۔“ کچھ دن گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہارا امتحان ہوگا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کے بعد میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 24 (584)، (تحفة الأشراف: 16712)، مسند احمد 6/89، 238، 248، 271 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2067
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ , وَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب، اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے، اور فرماتے: ”تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2067]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عذابِ قبر اور فتنہ دجال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں میں تمہارا امتحان ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17944)، ویأتی برقم: 5506 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2068
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَتْ يَهُودِيَّةٌ عَلَيْهَا فَاسْتَوْهَبَتْهَا شَيْئًا، فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ , فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی (اور) اس نے ان سے کوئی چیز مانگی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دیا تو اس نے کہا: اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے! عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2068]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے کوئی چیز مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ چیز اسے دے دی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے عذابِ قبر سے بچائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کچھ تردد ہوا حتیٰ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا ان (یہودیوں) کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے حتیٰ کہ جانور اسے سنتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 37 (6366)، صحیح مسلم/المساجد 24 (586)، (تحفة الأشراف: 17611)، مسند احمد 6/44، 205 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2069
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَتَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أَنْعَمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ عَجُوزَتَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ , قَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ , قَالَ:" صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا" , فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں، (اور) کہنے لگیں کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو میں نے ان کو جھٹلا دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کی تصدیق کروں، وہ دونوں نکل گئیں (تبھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہود مدینہ کی بوڑھیوں میں سے دو بوڑھیاں کہہ رہی تھیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں نے سچ کہا، انہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سارے چوپائے سنتے ہیں“، (پھر) میں نے دیکھا آپ ہر صلاۃ کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2069]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مدینے کی دو یہودی عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے، میں نے ان کی تکذیب کی اور میرا دل ان کی تصدیق پر مطمئن نہ ہوا۔ وہ چلی گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دو بوڑھی یہودی عورتوں نے کہا ہے کہ فوت شدگان کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سچ کہتی ہیں، ان کو عذاب ہوتا ہے حتیٰ کہ جانور اسے سنتے ہیں۔“ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، عذابِ قبر سے ضرور پناہ طلب کی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه