سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. بَابُ: ذِكْرِ أَوَّلِ مَنْ يُكْسَى
باب: (قیامت کے دن) جسے سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2089
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , وَأَبُو دَاوُدَ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْعِظَةِ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حُفَاةً غُرْلًا، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَوَهْبٌ: عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 , قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: يُجَاءُ، وَقَالَ وَهْبٌ، وَوَكِيعٌ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ , فَأَقُولُ: رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ سورة المائدة آية 117 - 118 الْآيَةَ , فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُدْبِرِينَ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے، (ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے: ننگے جسم اور بلا ختنہ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے (ابوداؤد کی روایت میں «یجائ» ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں «سیؤتی» ہے) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے اصحاب (امتی) ہیں، کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی (تو تو ہی ان کا نگہبان تھا) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے، تو کہا جائے گا: یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے، (اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2089]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ و نصیحت کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے ننگے جسم، ننگے پاؤں اور بغیر ختنہ کے جمع کیا جائے گا۔“ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [سورة الأنبياء: 104] ”جس طرح ہم نے پہلے پیدا کیا تھا، اسی طرح ہم پلٹائیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انہیں بائیں طرف نکال لیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میری امت سے ہیں (یا میرے ساتھی ہیں؟) تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے، انہوں نے آپ کی عدم موجودگی میں کیا کچھ کیا۔ تو میں (اسی طرح) کہوں گا: جس طرح اللہ کے نیک بندے (حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام) کا قول ہے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ٭ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 117-118] ”(اے اللہ!) میں تو ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، جب تو نے مجھے اپنے قبضے میں لے لیا، پھر تو تو ہی ان پر نگران تھا (لہٰذا تجھے ہی ان کے کاموں کا علم ہے) اور تو ہر چیز پر خوب گواہ ہے، اگر تو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو بے شک تو غالب ہے خوب حکمت والا ہے۔“ پھر کہا جائے گا: جب سے آپ ان کو چھوڑ کر (ہمارے پاس) آگئے یہ اسی وقت سے مرتد ہو گئے تھے اور مرتد ہی رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2084 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن