سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. بَابُ: الْبَعْثِ
باب: موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2083
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ:" إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے سنا آپ فرما رہے تھے: ”تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون ملو گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2083]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبے کی حالت میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنوں کے اللہ تعالیٰ سے ملو گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 45 (6524، 6525)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2860)، (تحفة الأشراف: 5583)، وقد أخرجہ: حم1/220 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه -
حدیث نمبر: 2084
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُرَاةً غُرْلًا، وَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ننگ دھڑنگ، غیر مختون اکٹھا کیے جائیں گے، اور مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «كما بدأنا أول خلق نعيده» ”جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے“ (الانبیاء: ۱۰۴)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2084]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ ننگے جسم اور بغیر ختنوں کے اکٹھے کیے جائیں گے۔ اور انسانوں میں سے سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [سورة الأنبياء: 104] ”جیسے ہم نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا، ویسے ہی پھر اسے پلٹائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 8 (3349)، 49 (3447)، تفسیر المائدة 13 (4626)، تفسیر الأنبیاء 2 (4740)، الرقاق 45 (6526)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2860)، سنن الترمذی/صفة القیامة 3 (2423)، تفسیر الأنبیاء (3167)، (تحفة الأشراف: 5622)، مسند احمد 1/223، 229، 235، 253، سنن الدارمی/الرقاق 82 (2844)، ویأتي برقم: 2089 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2085
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ؟ قَالَ:" لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون اٹھائے جائیں گے“، تو اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے (ان چیزوں سے) بے نیاز کر دے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2085]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنوں کے (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: شرم گاہوں کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴾ [سورة عبس: 37] ”ہر شخص کی اس دن ایسی حالت ہوگی جو اسے (ہر چیز سے) بے نیاز کر دے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16628)، مسند احمد 6/90 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2086
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً" , قُلْتُ: الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ:" إِنَّ الْأَمْرَ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ (قیامت کے دن) ننگے پاؤں (اور) ننگے بدن اکٹھا کیے جاؤ گے“، میں نے پوچھا: مرد عورت سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ اتنا سنگین ہو گا کہ انہیں اس کی فکر نہیں ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2086]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہیں ننگے پاؤں اور ننگے جسم (اللہ تعالیٰ کے سامنے) جمع کیا جائے گا۔“ میں نے کہا: مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! صورت حال اتنی ہولناک ہوگی کہ کسی کو اس کا خیال بھی نہ آئے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 45 (6527)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2859)، سنن ابن ماجہ/الزہد 33 (4276)، (تحفة الأشراف: 17461)، مسند احمد 6/53 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2087
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ، رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ، اثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشْرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ۱؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ۱؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے، اور شام کرے گی جہاں وہ شام کریں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2087]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ تین حالتوں میں اکٹھے کیے جائیں گے۔ ایک گروہ رحمت کی امید رکھے ہوئے اپنے انجام سے ڈرتا ہو گا۔ (اور دوسرا گروہ) دو آدمی ایک اونٹ پر ہوں گے یا تین آدمی ایک اونٹ پر یا چار ایک اونٹ پر یا دس آدمی ایک اونٹ پر اور باقی لوگوں (تیسرے گروہ) کو آگ اکٹھا کرے گی۔ جہاں وہ لوگ دوپہر کو آرام کے لیے ٹھہریں گے، آگ بھی وہاں ان کے ساتھ ٹھہرے گی۔ اور جہاں وہ رات گزاریں گے، آگ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی۔ جہاں وہ صبح کریں گے، وہاں آگ بھی ان کے ساتھ صبح کرے گی اور جہاں وہ شام کریں گے، وہیں آگ بھی ان کے ساتھ شام کرے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 45 (6522)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2861)، (تحفة الأشراف: 13521) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس آگ کا ذکر بہت سی حدیثوں میں آیا ہوا ہے، یہ عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو شام کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔ ۲؎: یہ پہلا گروہ ہو گا جو موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسی وقت چل پڑے گا جب سواریوں اور زاد راہ کی بہتات ہو گی، چنانچہ وہ سوار ہو کر کھاتا اور پہنتا پہنچے گا، اور کچھ بیٹھے رہیں جب سواریاں کم ہو جائیں گی تب چلیں گے، ایک اونٹ پر کئی کئی لوگ سوار ہوں گے، اور تیسرا گروہ وہ ہو گا جو سواریوں سے محروم ہو گا، اور جسے آگ پا پیادہ ہانک کر لے جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2088
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَنِي:" أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ: فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ، وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ، وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ يُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ فَلَا يَبْقَى حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَتَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ يُعْطِيهَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ (قیامت کے دن) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروپ سوار ہو گا، کھاتے (اور) پہنتے اٹھے گا، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے، اور انہیں آگ گھیر لے گی، اور ایک گروہ پیدل چلے گا (بلکہ) دوڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا، چنانچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہو گا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے میں دیدے گا جس پر وہ قادر نہ ہو سکے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2088]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمایا: ”لوگ تین گروہوں کی صورت میں اکٹھے کیے جائیں گے: کچھ تو سوار ہو کر کھاتے پیتے پہنتے (خوش خوش) آئیں گے، اور کچھ لوگوں کو فرشتے چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے لائیں گے اور آگ ان کو اکٹھا کرے گی، اور کچھ لوگ پیدل چلتے اور دوڑتے بھاگتے، گرتے پڑتے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ سواری کے جانوروں پر کوئی وبا ڈال دے گا تو وہ ختم ہو جائیں گے (بہت ہی کم رہ جائیں گے) حتیٰ کہ باغ والا آدمی اپنا پورا باغ ایک اونٹنی کے بدلے دینے پر تیار ہو گا مگر اونٹنی نہ لے سکے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11906)، مسند احمد 5/164 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ولید بن عبداللہ بن جمیع‘‘ حافظہ کے ذرا کمزور راوی ہیں، اس لیے کبھی کبھی انہیں روایتوں میں وہم ہو جایا کرتا تھا)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن