🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَالنَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر اور نضر بن شیبان کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2208
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ , وَأَبُو الْأَشْعَثِ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا اس کے (بھی) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2208]
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان کے جذبے سے اور ثواب کی نیت سے رمضان المبارک (کی راتوں) کا قیام کرے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور جو شخص ایمان کے جذبے سے اور ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کا قیام کرے، اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 6 (1901)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (760)، (تحفة الأشراف: 15424)، مسند احمد 2/473، سنن الدارمی/الصوم 54 (1817)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5030 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2209
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے (عبادت پر) کمربستہ ہو گا اس کے (بھی) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2209]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان المبارک کا قیام کرے گا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور جو شخص ایمان و احتساب کے ساتھ لیلۃ القدر کا قیام کرے گا، اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 15418 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2210
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ لَهُ: حَدِّثْنِي بِأَفْضَلِ شَيْءٍ سَمِعْتَهُ يُذْكَرُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ , فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَفَضَّلَهُ عَلَى الشُّهُورِ، وَقَالَ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
نصر بن علی کہتے ہیں: مجھ سے نضر بن شیبان نے بیان کیا کہ وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملے، تو ان سے انہوں نے کہا: آپ نے ماہ رمضان کے سلسلے میں جو سب سے افضل قابل ذکر چیز سنی ہوا سے بیان کیجئے تو ابوسلمہ نے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو اسے تمام مہینوں میں افضل قرار دیا اور فرمایا: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے ہی نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے «أبوسلمة حدثني عبدالرحمٰن» کے بجائے صحیح «أبوسلمة عن أبي هريرة» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2210]
حضرت نضر بن شیبان، حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے ملے اور عرض کیا: مجھے سب سے افضل حدیث بیان کیجیے جو آپ نے اپنے والد محترم سے رمضان المبارک کی فضیلت کے بارے میں سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کا ذکر فرمایا اور اسے دوسرے تمام مہینوں پر فضیلت دی اور فرمایا: جو شخص ایمان کی بنا پر اور ثواب کی نیت سے رمضان المبارک (کی راتوں) میں قیام کرے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے جس طرح وہ اس دن تھا جس دن اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ غلط ہے (یعنی عبدالرحمن بن عوف کا ذکر)، درست ابوسلمہ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة173 (1328)، (تحفة الأشراف: 9729)، مسند احمد 1/191، 194، 195 (ضعیف) (اس کے راوی ’’نضر بن شیبان‘‘ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1328) النضر بن شيبان: لين الحديث (تقريب: 7136) وقال ابن معين: ’’ليس حديثه بشيء‘‘ ( الجرح والتعديل 8 476 وسنده صحيح) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2211
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: مَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا.
اس سند سے بھی ابوسلمہ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں «من صامه وقامه إيمانا واحتسابا» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2211]
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ سے اسی طرح کی روایت آتی ہے جس میں یہ لفظ ہیں: جس شخص نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھے اور (راتوں کا) قیام کیا… الخ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2210) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2212
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ، سَمِعَهُ أَبُوكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْنَ أَبِيكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: نَعَمْ , حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ، وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
نضر بن شیبان کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے کہا کہ آپ مجھ سے ماہ رمضان کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے اپنے والد (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) سے سنی ہو، اور اسے آپ کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہو، آپ کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ کوئی اور حائل نہ ہو۔ انہوں نے کہا: اچھا سنو! مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں، اور میں نے تمہارے لیے اس میں قیام کرنے کو سنت قرار دیا ہے اس میں جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھے گا اور (عبادت پر) کمربستہ ہو گا تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2212]
حضرت نضر بن شیبان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے کہا: مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے اپنے والد محترم سے سنی ہو اور آپ کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان المبارک کے بارے میں بلاواسطہ سنی ہو۔ انہوں نے کہا: ہاں، مجھے والد محترم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان المبارک کے روزے رکھنا فرض کیا ہے اور میں نے تمہارے لیے اس (کی راتوں) کا قیام مسنون کیا ہے، لہٰذا جو شخص ایمان رکھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے اس ماہ مقدس میں صیام و قیام کرے گا، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جس طرح اسے اس کی ماں نے (گناہوں سے پاک) جنا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2210 (ضعیف) (اس کے راوی ’’نضر‘‘ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1328) وانظر الحديث السابق (2210) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں