سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ہشام بن عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2306
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں سفر روزہ میں رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2306]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں سفر میں روزے رکھا کرتا تھا۔ (اس لیے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں دوران سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2307
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2307]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اکثر نفل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2308
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ , قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2308]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ (اسلمی) رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ اور وہ اکثر (نفل) روزے رکھا کرتے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم33 (1943)، صحیح مسلم/الصوم17 (1121)، (تحفة الأشراف: 17162، موطا امام مالک/الصیام 7 (24)، مسند احمد 6/46، 93، 202، 207، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 17 (1121)، سنن ابی داود/الصوم 42 (2402)، سنن الترمذی/الصوم 19 (711)، سنن ابن ماجہ/الصوم 10 (1662) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2309
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2309]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ (اسلمی) رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر جی چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر جی چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2310
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ رَجُلًا يَسْرُدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2310]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دورانِ سفر روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا اور یہ (اللہ کے بندے) لگاتار نفل روزے رکھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 19 (711)، (تحفة الأشراف: 17071) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن