یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب : ذكر الاختلاف على هشام بن عروة فيه
باب: اس حدیث میں ہشام بن عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2307
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2307]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اکثر نفل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2307 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← حمزة بن عمرو الأسلمي