🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

77. بَابُ: ذِكْرِ الزِّيَادَةِ فِي الصِّيَامِ وَالنُّقْصَانِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: روزہ میں زیادتی و کمی کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2396
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثواب ملے گا۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: چار دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملے گا، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر داود علیہ السلام کے روزے رکھو جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2396]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ایک روزہ رکھ لیا کر، باقی دنوں کا ثواب بھی تجھے مل جائے گا۔ میں نے کہا: مجھے اس سے زائد کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ لیا کر، باقی دنوں کا ثواب بھی تجھے مل جائے گا۔ میں نے کہا: مجھے اس سے زائد کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: تین دن روزہ رکھ لیا کر، باقی دنوں کا ثواب بھی تجھے مل جائے گا۔ میں نے کہا: مجھے اس سے زائد کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: چار دن روزہ رکھ لیا کر، باقی دنوں کا ثواب بھی تجھے مل جائے گا۔ میں نے عرض کیا: مجھے اس سے بھی زائد کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: تو حضرت داود علیہ السلام کے روزے رکھا کر جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل ترین روزے ہیں۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8896)، مسند احمد 2/205، 225 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2397
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمَ , فَقَالَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ التِّسْعَةِ" , فَقُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ الثَّمَانِيَةِ" , قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مَنْ ذَلِكَ , قَالَ:" فَصُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ" , قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى , قَالَ:" صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2397]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روزے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھ لیا کر، باقی نو دن کا ثواب بھی تجھے مل جائے گا۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر ہر نو دن میں ایک روزہ رکھ لیا کر، تجھے باقی آٹھ دنوں کا ثواب بھی مل جائے گا۔ میں نے کہا: مجھ میں مزید طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: ہر آٹھ دن میں ایک دن روزہ رکھ لیا کر، تجھے باقی سات دن کا ثواب بھی مل جائے گا۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے بھی زیادہ طاقت ہے۔ آپ مزید اضافہ فرماتے رہے حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن ناغہ کر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8971)، مسند احمد 2 224 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2398
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وأَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ عَشَرَةِ" , فَقُلْتُ: زِدْنِي , فَقَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ" , قُلْتُ: زِدْنِي , قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةٍ" , قَالَ: ثَابِتٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفٍ , فَقَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا يَزْدَادُ فِي الْعَمَلِ، وَيَنْقُصُ مِنَ الْأَجْرِ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2398]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ، تجھے دس روزوں کا ثواب ملے گا۔ میں نے کہا: اور زیادہ کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ لے، تجھے نو روزوں کا ثواب ملے گا۔ میں نے کہا: مزید زیادہ کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن کے روزے رکھ لے، تجھے آٹھ روزوں کا ثواب ملے گا۔ (راویِ حدیث) ثابت رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت مطرف رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: میرا خیال ہے عمل بڑھ رہا ہے، ثواب کم ہو رہا ہے۔ حدیث کے الفاظ محمد (بن اسماعیل) کے بیان کردہ ہیں (زکریا بن یحییٰ کے نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8655، مسند احمد 2/165، 209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں