🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

78. بَابُ: صَوْمِ عَشْرَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2399
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ، وَتَصُومُ النَّهَارَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ , قَالَ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى صَوْمِ الدَّهْرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ خَمْسَةَ أَيَّامٍ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" فَصُمْ عَشْرًا" , فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا" ,
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: پانچ دن رکھ لیا کرو، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو دس دن رکھ لیا کرو، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تم داود علیہ السلام کے روزے رکھا کرو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2399]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو ساری رات قیام کرتا ہے اور ہر روز روزہ رکھتا ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو نیکی ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمیشہ روزہ رکھے، اس کا کوئی روزہ نہیں، لیکن میں تجھے ہمیشہ کے روزے کا ایک طریقہ بتاتا ہوں: مہینے میں تین روزے رکھ۔ (ثواب پورے مہینے کے برابر ہوگا۔) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مہینے میں) پانچ دن روزہ رکھ۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دس رکھ۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھا کر۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2379 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2400
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ صَدُوقًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2400]
حضرت ابو العباس رحمہ اللہ نے، جو کہ شام کے رہنے والے شاعر تھے (باوجود شاعر ہونے کے) بہت سچے شخص تھے، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اور پھر حدیث بیان فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2379و2390 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2401
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو! إِنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ الدَّهْرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہو گا، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: صوم داود رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2401]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! تو ہمیشہ روزے رکھتا ہے اور ساری ساری رات عبادت کرتا ہے، اور جب تو ایسا کرے گا، تیری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور طبیعت تھک جائے گی۔ اس شخص کا کوئی روزہ نہیں جس نے ہمیشہ روزہ رکھا۔ ہمیشہ روزہ رکھنے کا جائز طریقہ یہ ہے کہ ہر مہینے سے تین دن روزہ رکھا جائے، یہ (ثواب کے لحاظ سے) زمانے بھر کا روزہ بن جائے گا۔ میں نے کہا: میں اس سے زائد کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے، اور جب دشمن کا سامنا ہوتا تھا تو بھاگتے نہ تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2379 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2402
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ:" فِي خَمْسَةِ أَيَّامٍ"، وَقَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ، فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ:" صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: داود علیہ السلام کا روزہ رکھو، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2402]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینے میں ایک دفعہ قرآن مجید ختم کیا کر۔ میں نے کہا: میں اس سے زائد کی طاقت رکھتا ہوں۔ اس طرح میں بار بار آپ سے مزید مطالبہ کرتا رہا حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: پانچ دن میں ختم کر لیا کر۔ آپ نے فرمایا: مہینے میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: مجھے اس سے زائد کی طاقت ہے۔ اس طرح میں آپ سے بار بار مطالبہ کرتا رہا حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھ جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2390 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2403
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَإِمَّا لَقِيَهُ قَالَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، وَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ" , قَالَ: إِنِّي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ" , إِذًا قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى" , قَالَ: وَمَنْ لِي بِهَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا: کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم (ہمیشہ) روزہ رکھتے ہو، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو، پوچھا: اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے، انہوں نے کہا: کون ایسا کر سکتا ہے؟ اللہ کے نبی!۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2403]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ میں لگاتار روزے رکھتا ہوں اور ساری ساری رات نماز پڑھتا رہتا ہوں۔ آپ نے مجھے بلا بھیجا، یا میں آپ کو ملا (یا آپ مجھے ملے) آپ نے فرمایا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تو مسلسل روزے رکھتا ہے، کبھی ناغہ نہیں کرتا، اور ساری ساری رات نماز پڑھتا رہتا ہے؟ ایسے نہ کر۔ تیری آنکھ کو اس کا حق (نیند) ملنا چاہیے اور تیری بیوی کو بھی اس کا حق (شب بسری) ملنا چاہیے۔ روزے بھی رکھ، ناغے بھی کر، نماز بھی پڑھ اور نیند بھی پوری کر۔ ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھ۔ باقی نو دن (کے روزوں) کا ثواب بھی تجھے مل جائے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھ۔ میں نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے نبی! حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح روزے رکھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو بھاگتے نہ تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرے لیے اس (آخری) بات کا کون ضامن ہوگا؟ (یعنی یہ بہت مشکل کام ہے، روزہ بھی اور جہاد بھی)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 2390 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد ق نحوه دون قوله قال ومن لي
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں