🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

87. بَابُ: حَدِّ الْغِنَى
باب: مالداری کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ خُمُوشًا أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَاذَا يُغْنِيهِ أَوْ مَاذَا أَغْنَاهُ؟ قَالَ:" خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ" , قَالَ يَحْيَى، قَالَ: سُفْيَانُ، وَسَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بے نیاز کرتی ہو، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنا مال ہو تو اسے غنی (مالدار) سمجھا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: پچاس درہم، یا اس کی قیمت کا سونا ہو۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے (یہ حدیث) بیان کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2593]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگے، حالانکہ اس کے پاس اتنا مال ہے جو اسے کفایت کر سکتا ہے، تو قیامت کے دن اس کا چہرہ نوچا ہوا ہوگا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کتنا مال ایک شخص کو کفایت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس (کے برابر) مالیت کا سونا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کہا، میں نے زبید کو سنا وہ اسے محمد بن عبد الرحمن بن یزید سے بیان کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 23 (1626)، سنن الترمذی/الزکاة 22 (651)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 26 (1840)، (تحفة الأشراف: 9387) مسند احمد (1/388، 441)، سنن الدارمی/الزکاة 15 (1680) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1626) ترمذي (650،651) ابن ماجه (1840) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں