سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: الْحَجِّ عَنِ الْحَىِّ الَّذِي، لاَ يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّحْلِ
باب: زندہ شخص جو سواری پر ٹھہر نہیں سکتا اس کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2636
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْع، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّحْلِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ، قَالَ:" نَعَمْ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے مزدلفہ (یعنی دسویں ذی الحجہ) کی صبح کی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! حج کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو فریضہ عائد کیا ہے اس نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (کر لو)“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2636]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو خثعم (قبیلے) کی ایک عورت نے مزدلفہ کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر فرض کیے گئے حج نے میرے والد کو اس حال میں پایا ہے کہ وہ انتہائی بوڑھے ہیں، سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5725) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2637
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2637]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (ایک دوسری سند سے) سابقہ حدیث کی مثل روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2636 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن