سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: مَنْ كَانَ أَهْلُهُ دُونَ الْمِيقَاتِ
باب: میقات کے اندر رہنے والے تلبیہ کہاں سے پکاریں گے؟
حدیث نمبر: 2658
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قَالَ: هُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِمَّنْ سِوَاهُنَّ لِمَنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ مِنْ حَيْثُ بَدَا حَتَّى يَبْلُغَ ذَلِكَ أَهْلَ مَكَّةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ، اور نجد والوں کے لیے قرن (قرن المنازل) کو، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو اور فرمایا: ”یہ سب یہاں کے رہنے والوں کے میقات ہیں، اور ان لوگوں کے میقات بھی جو حج کا ارادہ رکھتے ہوں اور ان پر سے ہو کر گزریں۔ اور جو لوگ اس میقات کے اندر رہتے ہوں تو وہ جہاں سے شروع کریں وہیں سے وہیں سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ یہی حکم مکہ والوں کو بھی پہنچے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2655 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2659
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَة، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، فَهُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ حَتَّى أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو، اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو۔ یہ جگہیں یہاں کے لوگوں کے لیے میقات ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کے لیے بھی جو ان پر سے ہو کر گزریں، اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھنے والوں میں سے ہوں اور جو لوگ ان جگہوں کے اندر رہتے ہوں تو وہ اپنے گھر ہی سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے تلبیہ پکاریں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 9 (1526)، 11 (1529)، صحیح مسلم/الحج 12 (1181)، سنن ابی داود/الحج 9 (1738)، (تحفة الأشراف: 5738)، مسند احمد (1/238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه