🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

56. بَابُ: الْعَمَلِ فِي الإِهْلاَلِ
باب: تلبیہ کب پکاریں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2755
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارنا شروع کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2755]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 9 (819)، (تحفة الأشراف: 5502)، مسند احمد (1/285، سنن الدارمی/المناسک 12 (1847) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (819) خصيف: ليس بالقوي،كما قال النسائي فى كتاب الضعفاء و المتروكين (177) وضعفه الجمهور (انظر سنن أبى داود بتحقيقي: 266) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2756
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ , عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ بِالْبَيْدَاءِ، ثُمَّ رَكِبَ وَصَعِدَ جَبَلَ الْبَيْدَاءِ، وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر سوار ہوئے اور بیداء کے پہاڑ پر چڑھے، اور حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا جس وقت ظہر پڑھ لی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2756]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز بیداء میں پڑھی، پھر سوار ہوئے اور بیداء کے پہاڑ پر چڑھے اور جب ظہر کی نماز پڑھی تھی، اسی وقت حج اور عمرے کی «لَبَّيْكَ» لبیک کہی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2663 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2663) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2757
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ،" فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى وَهُوَ صَامِتٌ، حَتَّى أَتَى الْبَيْدَاءَ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے (ظہر کی) نماز پڑھی، اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2757]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے بارے میں روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں تشریف لائے تو آپ نے نماز پڑھی، آپ ( «لَبَّيْكَ» سے) خاموش رہے حتیٰ کہ آپ بیداء میں پہنچے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2619) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2758
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ".
سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: تمہارا یہ بیداء وہی ہے جس کے تعلق سے تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیداء سے نہیں) ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے تلبیہ پکارا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2758]
حضرت سالم رحمہ اللہ نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ) کو فرماتے سنا کہ یہ تمہاری بیداء ہے جس کی بابت تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتے (غلط بیانی کرتے) ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی مسجد سے «لَبَّيْكَ» لبیک کہہ لیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج20 (1541)، صحیح مسلم/الحج4 (1186)، سنن ابی داود/الحج21 (1771)، سنن الترمذی/الحج8 (818)، (تحفة الأشراف: 7020)، موطا امام مالک/الحج 9 (30)، مسند احمد (2/10، 28، 66، 85، 111، 154) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں، خواہ یہ عمداً ہو یا کسی غلط فہمی اور سہو کی وجہ سے ہو، ابن عمر رضی الله عنہما نے انہیں جھوٹا اس اعتبار سے کہا ہے کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے نہ اس اعتبار سے کہ انہوں نے عمداً جھوٹ کہا ہے۔ ۲؎: اس مسئلہ میں صحابہ میں اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ آپ نے احرام ذو الحلیفہ میں احرام کی دونوں رکعتوں کے پڑھنے کے بعد مسجد میں ہی تلبیہ پکارنا شروع کیا تھا اور بعض کا کہنا ہے کہ جس وقت آپ سواری پر سیدھے بیٹھے اس وقت آپ نے تلبیہ پکارا، اور بعض کا کہنا ہے کہ سواری جس وقت آپ کو لے کر کھڑی ہوئی اس وقت آپ نے تلبیہ پکارنا شروع کیا، اس اختلاف کی وجہ ہے کہ لوگ مختلف وقتوں میں الگ الگ مختلف ٹکڑوں میں آپ کے پاس آ رہے تھے تو لوگوں نے جہاں آپ کو تلبیہ پکارتے سنا یہی سمجھا کہ آپ نے یہیں سے تلبیہ شروع کیا ہے، حالانکہ آپ نے تلبیہ پکارنے کی شروعات وہیں کر دی تھی جہاں آپ نے احرام کی دونوں رکعتیں پڑھی تھیں، پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے تلبیہ پکارا، پھر بیداء کی اونچائی پر چڑھتے وقت آپ نے تلبیہ پکارا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2759
أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے دیکھا، پھر جب اونٹنی (آپ کو لے کر) پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2759]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے تھے، پھر جب سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوتی تو آپ «لَبَّيْكَ» لبیک فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 2 (1514)، 28 (1552)، 29 (1553)، صحیح مسلم/الحج 3 (1184)، (تحفة الأشراف: 6980)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 14 (2916)، موطا امام مالک/الحج 9 (32) (موقوفاً)، مسند احمد (2/17، 18، 29، 36، 37) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2760
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ. ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ بتا رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا جس وقت آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2760]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت «لَبَّيْكَ» لبیک کہتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر کھڑی ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 28 (1552)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، (تحفة الأشراف: 7680)، 82 (1970)، مسند احمد 2/36، سنن الدارمی/المناسک 82 (1970) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2761
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَابْنِ إِسْحَاقَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِكَ نَاقَتُكَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَانْبَعَثَتْ".
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے تو آپ نے اس وقت تلبیہ پکارا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ پکارا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2761]
حضرت عبید بن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ اس وقت «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں کہتے ہیں جب سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوتی ہے (کیا وجہ ہے؟) انہوں نے فرمایا: بلا شبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی وقت «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں فرمایا کرتے تھے جب آپ کی سواری آپ کو لے کر اٹھتی اور سیدھی کھڑی ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 30 (166)، اللباس 37 (5851)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، دالحج 21 (1772)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، (تحفة الأشراف: 7316)، سنن الترمذی/الشمائل 10 (74)، موطا امام مالک/الحج 9 (31)، مسند احمد (2/، 17)، وراجع رقم117، وما یأتي برقم: 2953، 5245) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں