سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. بَابُ: إِهْلاَلِ النُّفَسَاءِ
باب: نفاس والی عورت کے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ يَقْدِرُ أَنْ يَأْتِيَ رَاكِبًا أَوْ رَاجِلًا إِلَّا قَدِمَ، فَتَدَارَكَ النَّاسُ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، حَتَّى جَاءَ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، ثُمَّ أَهِلِّي" , فَفَعَلَتْ مُخْتَصَرٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کر سکے، پھر (دسویں سال) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آ سکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو“، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2762]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ میں) نو سال ٹھہرے مگر آپ نے حج نہیں فرمایا، پھر (دسویں سال میں) آپ نے تمام لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ کوئی ایسا شخص باقی نہ رہا جو سوار یا پیدل آنے کی طاقت رکھتا تھا مگر وہ نہ آیا ہو (یعنی ضرور آیا)۔ سب لوگ جمع ہو گئے تاکہ آپ کے ساتھ حج کو جائیں حتیٰ کہ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا تو آپ نے فرمایا: ”تو غسل کر کے لنگوٹ باندھ لے، پھر لبیک شروع کر دے۔“ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2763
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: نَفَسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ كَيْفَ تَفْعَلُ؟" فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبِهَا وَتُهِلَّ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2763]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے (حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحلیفہ میں) محمد بن ابی بکر کو جنم دیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ رہی تھیں کہ اب کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”غسل کر کے لنگوٹ باندھ لے اور «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہے (یعنی احرام شروع کر دے)۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن