🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. بَابُ: فِي الْمُهِلَّةِ بِالْعُمْرَةِ تَحِيضُ وَتَخَافُ فَوْتَ الْحَجِّ
باب: عمرہ کا تلبیہ پکارنے والی عورت کو حیض آ جائے اور اسے حج کے فوت ہو جانے کا ڈر ہو تو وہ کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ،" فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ" , فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ، وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ، وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكِ؟" فَقَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ، وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ، وَلَمْ أُحْلِلْ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ" , فَفَعَلَتْ، وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ:" فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا تلبیہ پکارتی ہوئی آئیں۔ یہاں تک کہ جب ہم سرف ۱؎ پہنچے، تو وہ حائضہ ہو گئیں۔ اور اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ جب ہم (مکہ) پہنچ گئے اور ہم نے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔ تو ہم نے پوچھا: کیا چیزیں ہم پر حلال ہوئیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ساری چیزیں حلال ہو گئی (یہ سن کر) ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا، خوشبو لگائی، اور اپنے (سلے) کپڑے پہنے، اس وقت ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی رہ گئیں تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ (آٹھ ذی الحجہ) کو حج کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ آپ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ مجھے حیض آ گیا ہے، اور لوگ حلال ہو گئے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور (ابھی تک) میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا ہے ۲؎ اور لوگ اب حج کو جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) کے لیے مقدر فرما دیا ہے، تم غسل کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا، اور وقوف کی جگ ہوں (یعنی منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم حج و عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں نے حج سے پہلے عمرے کا طواف نہیں کیا ہے؟ (پھر عمرہ کیسے ہوا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) سے فرمایا: عبدالرحمٰن! تم انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ، یہ واقعہ محصب میں ٹھہرنے والی رات کا ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2764]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھے (یا حج کی لبیک کہتے ہوئے) جا رہے تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا۔ جب ہم سرف مقام پر پہنچے تو انھیں حیض شروع ہو گیا حتیٰ کہ جب ہم (مکہ مکرمہ میں) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو شخص اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لایا، وہ حلال ہو جائے۔ ہم نے کہا: کس قسم کے حلال ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل حلال ہو جائیں۔ چنانچہ ہم نے اپنی بیویوں سے جماع کیا، خوشبوئیں لگائیں اور عام کپڑے پہنے، حالانکہ ہمارے اور یومِ عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی تھیں، پھر ہم نے ترویے (۸ ذوالحجہ) کے دن دوبارہ احرام باندھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انھیں روتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: ہوا یہ ہے کہ مجھے حیض آ رہا ہے۔ لوگ (عمرہ کر کے) حلال ہو گئے ہیں اور میں حلال نہیں ہو سکی (یعنی عمرہ ہی نہیں کر سکی)۔ اب لوگ حج کو جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی بات نہیں) یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ رکھی ہے، لہٰذا تو غسل کر، پھر حج کا احرام باندھ لے۔ تو انھوں نے ایسے ہی کیا اور تمام ٹھہرنے کی جگہوں (منیٰ، عرفات اور مزدلفہ) میں ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں تو انھوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے حج اور عمرے دونوں سے حلال (فارغ) ہو گئی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کر رہی ہوں کیونکہ میں نے حج سے قبل بیت اللہ کا طواف وغیرہ نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبدالرحمن! انھیں لے جاؤ اور انھیں تنعیم سے عمرہ کراؤ۔ یہ اس رات کی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محصب میں گزاری تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج17 (1213)، سنن ابی داود/الحج23 (1785)، (تحفة الأشراف: 2908)، مسند احمد (3/394) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سرف مکہ سے دس میل کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: یعنی حیض کی وجہ سے میں ابھی عمرے سے فارغ نہیں ہو سکی ہوں۔ ۳؎: یعنی منیٰ سے بارہویں یا تیرہویں تاریخ کو روانگی کے بعد محصب میں ٹھہرنے والی رات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ" , فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، قَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ، فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہو جائے، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ ہی صفا و مروہ کی سعی کر سکی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول دو، کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو جانے دو، تو میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب میں حج کر چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے عمرہ کی جگہ میں ہے، تو جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر وہ حلال ہو گئے (پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرا طواف ۱؎ اپنے حج کا کیا، اور جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا (یعنی قران کیا تھا) تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2765]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے، پھر وہ حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہو۔ میں مکہ میں آئی تو مجھے حیض آ رہا تھا۔ (حیض کی بنا پر) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔ میں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر (یعنی بال) کھول لو اور کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دو۔ میں نے ایسے ہی کیا۔ جب میں نے حج پورا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے بھائی) حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے اس عمرے کی جگہ ہے (جو تجھ سے رہ گیا تھا)۔ تو جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر وہ حلال ہو گئے، پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد اپنے حج کا ایک اور طواف کیا لیکن جنہوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا، انہوں نے صرف ایک طواف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 243 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں طواف سے مراد صفا و مروہ کی سعی ہے مطلب یہ ہے کہ قارن پر ایک ہی سعی ہے عمرہ اور حج دونوں میں سے کسی ایک کی سعی کر لے کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں