صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ التَّكْبِيرِ عِنْدَ الرُّكْنِ:
باب: حجر اسود کے سامنے آ کر تکبیر کہنا۔
حدیث نمبر: 1613
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قال:" طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالبيت عَلَى بَعِيرٍ، كُلَّمَا أَتَى الرُّكْنَ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ كَانَ عِنْدَهُ وَكَبَّرَ" تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف ایک اونٹنی پر سوار رہ کر کیا۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔ خالد طحان کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن طہمان نے بھی خالد حذاء سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1613]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حجر اسود کے پاس آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو چیز ہوتی اس سے اشارہ کرتے اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے۔ ابراہیم بن طہمان نے خالد الحذاء سے روایت کرنے میں خالد بن عبد اللہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة