سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. بَابُ: قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ}
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مسجد میں ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو“۔
حدیث نمبر: 2959
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ، تَقُولُ: الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ، قَالَ: فَنَزَلَتْ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ سورة الأعراف آية 31".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (ایام جاہلیت میں) عورت یہ شعر پڑھتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی۔ «اليوم يبدو بعضه أو كله وما بدا منه فلا أحله» ”آج کے دن جسم کا کل یا کچھ حصہ ظاہر ہو رہا ہے اور جو کچھ بھی ظاہر ہو رہا ہے میں اس کو مباح نہیں کر سکتی“ (کہ لوگ اسے دیکھیں یا ہاتھ لگائیں) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر یہ آیت اتری: «يا بني آدم خذوا زينتكم عند كل مسجد» ”اے بنی آدم! جس کسی بھی مسجد میں جاؤ اپنا لباس پہن لیا کرو“ (الأعراف: ۳۱)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2959]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (دورِ جاہلیت میں کبھی کبھار) کوئی عورت ننگی بیت اللہ کا طواف کرتی اور یوں کہتی: آج (بغرضِ طواف) میری کچھ یا پوری شرمگاہ ننگی ہو گی، (اور اگر ایسا ہو تو) میں کسی کے لیے اس کی طرف نظر کرنا مباح قرار نہیں دیتی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنا بریں یہ آیت اتری: ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [سورة الأعراف: 31] ”اے بنی آدم! ہر مسجد میں جاتے وقت زینت اختیار کرو (پورا لباس پہنا کرو)۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/التفسیر 2 (3028)، (تحفة الأشراف: 5615) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2960
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ:" أَلَا لَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس حج میں جس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حجۃ الوداع سے پہلے امیر بنایا تھا، اس جماعت میں شامل کر کے بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر رہی تھی: لوگو! سن لو! اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کر سکے گا اور نہ کوئی ننگا ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2960]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حجۃ الوداع سے قبل اس حج میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امیرِ حج مقرر فرمایا تھا، مجھے کچھ اور لوگوں کے ساتھ یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ ”خبردار! اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہیں آئے گا اور نہ کوئی ننگا شخص بیت اللہ کا طواف کر سکے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 10 (369)، الحج 67 (1622)، الجزیة 16 (3177)، المغازي 66 (4363)، تفسیرالبراء ة 2 (4655)، 3 (4656)، 4 (4657)، صحیح مسلم/الحج 78 (1347)، سنن ابی داود/الحج 67 (1946)، (تحفة الأشراف: 6624) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2961
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" جِئْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَاءَةَ، قَالَ: مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ؟ قَالَ: كُنَّا نُنَادِي" إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ، أَوْ أَمَدُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل مکہ کے پاس سورۃ براءت دے کر بھیجا محرر بن ابی ہریرہ نے اپنے والد سے پوچھا: آپ لوگ کیا پکارتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہم اعلان کرتے تھے کہ جنت میں سوائے مومن کے کوئی نہ جائے گا، اور ننگا ہو کر کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہد و معاہدہ ہو تو اس کی مدت و مہلت چار مہینے کی ہے، اور جب چار مہینے گزر جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری ہو گا، اور اس کا رسول بھی، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کر سکے گا۔ میں (یہ باتیں) لوگوں کو پکار پکار کر بتا رہا تھا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2961]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جبکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے والوں کی طرف سے براءت کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ شاگرد نے کہا: آپ کیا اعلان فرماتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: ہم اعلان کرتے تھے کہ ”مومن کے علاوہ کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کوئی ننگا شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکے گا۔ جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کا کوئی معاہدہ ہے تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔ جب چار ماہ گزر جائیں گے تو ﴿اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین (کے ساتھ ہر قسم کے معاہدہ صلح) سے لا تعلق ہوں گے﴾ [سورة التوبة: 3] اور کوئی مشرک اس سال کے بعد حج کرنے نہیں آئے گا۔“ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) میں یہ اعلانات کرتا رہا حتیٰ کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14353)، مسند احمد (2/299)، سنن الدارمی/الصلاة 140 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن