🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

162. بَابُ: أَيْنَ يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ
باب: طواف کی دونوں رکعتیں کہاں پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2962
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ سُبُعِهِ جَاءَ حَاشِيَةَ الْمَطَافِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَّافِينَ أَحَد".
مطلب بن ابی وداعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ طواف کے اپنے سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو مطاف کے کنارے آئے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کسی طرح کی آڑ نہ تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2962]
حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ ساتویں چکر سے فارغ ہوئے تو آپ طواف والی جگہ کے (باہر والے) کنارے کے پاس آگئے اور دو رکعتیں پڑھیں، (اس وقت) طواف کرنے والوں اور آپ کے درمیان کوئی شخص (بطور سترہ) نہ تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 759 (ضعیف) (اس کے راوی ”کثیر بن المطلب“ لین الحدیث ہیں، اس لیے ان کے بیٹے ”کثیر بن کثیر‘‘ اپنے باپ کو حذف کر کے کبھی ’’عن بعض أھلہ‘‘ اور کبھی ”عمن سمع جدہ“ کہا کرتے تھے)»
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم ۷۵۹۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (759) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2963
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ" قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے لگائے اور مقام (ابراہیم) کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور فرمایا: «لقد كان لكم في رسول اللہ أسوة حسنة» رسول اللہ کی ذات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے (تو اللہ کا رسول جیسا کچھ کرے ویسے ہی تم بھی کرنا) (الأحزاب: ۲۱)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2963]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ مکرمہ) تشریف لائے تو بیت اللہ کے سات چکر لگائے، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے طرز عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2933 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں