🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

215. بَابُ: الإِيضَاعِ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ
باب: وادی محسر میں اونٹ کو تیز بھگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3055
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹ کو تیز دوڑایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3055]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹنی کو بہت تیز کر دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 55 (886)، (تحفة الأشراف: 2751) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3056
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلًا، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي".
ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے (وہاں پہنچ کر) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3056]
حضرت محمد باقر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور میں نے ان سے کہا: ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بیان فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا حتیٰ کہ جب وادیِ محسر میں پہنچے تو سواری کو کچھ تیز کر دیا، پھر اس درمیانی راستے سے چلے جو آپ کو بڑے جمرے (جمرہ عقبہ) پر جا پہنچاتا ہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جمرے کے پاس پہنچے جو شجرہ کے پاس ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے۔ اور وہ کنکریاں خذف کی کنکریوں جیسی (چھوٹی چھوٹی) تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رمی وادی کے نشیب کی طرف سے کی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2623، 2636)، انظر حدیث رقم: 2975)، ویأتي عند المؤلف: 3056 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں