🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3144
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ صَفْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: يَا عَمْرُو: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى بَلَغَ الْعَدُوَّ، أَوْ لَمْ يَبْلُغْ كَانَ لَهُ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، كَانَتْ لَهُ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ، عُضْوًا بِعُضْوٍ".
عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے کرتے) بوڑھا ہو گیا، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہو گی۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات دلانے کا فدیہ بنے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3144]
حضرت شرجیل بن سمط نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمرو! ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس شخص کے بال اللہ تعالیٰ کے راستے میں سفید ہو گئے تو وہ سفید بال اس کے لیے قیامت کے دن نور کا ذریعہ بن جائیں گے۔ اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر پھینکا، وہ دشمن تک پہنچے یا نہ پہنچے، اس کے لیے غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا۔ اور جو شخص مومن غلام آزاد کرے تو اس کا ہر عضو اس کے ہر عضو کے لیے آگ سے آزادی کا سبب بن جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10756)، سنن ابی داود/العتق 14 (3966) (قولہ ’’من أعتق‘‘ الخ فحسب)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 9 (1635) (إلی قولہ: ’’نورا یوم القیامة‘‘)، مسند احمد (4/112، 386) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السَّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ" , فَبَلَّغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ".
ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو (اس کا) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3145]
حضرت ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر (دشمن تک) پہنچایا، اسے جنت میں ایک درجہ حاصل ہو جائے گا۔ میں نے اس دن سولہ تیر دشمنوں تک پہنچائے، نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر چلائے تو اسے غلام کے آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العتق 14 (3965) مطولا، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1638) مختصراً، (تحفة الأشراف: 10768)، مسند احمد (4/113، 384) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3146
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ: يَا كَعْبُ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ لَهُ: حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" ارْمُوا، مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً" , قَالَ ابْنُ النَّحَّامِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ؟ قَالَ:" أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ، وَلَكِنْ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ".
شرحبیل بن سمط سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئے، لیکن دیکھئیے اس میں کوئی کمی و بیشی اور فرق نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مسلمان اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن یہی چیز اس کے لیے نور بن جائے گی، انہوں نے (پھر) ان سے کہا: ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی (کوئی اور) حدیث بیان کیجئے، لیکن (ڈر کر اور بچ کر) بے کم و کاست (سنائیے)۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (دشمن کو) تیر مارو، جس کا تیر دشمن کو لگ گیا تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، (یہ سن کر) ابن النحام نے کہا: اللہ کے رسول! وہ درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: (سن) وہ تمہاری ماں کی چوکھٹ نہیں ہے (جس کا فاصلہ بہت کم ہے) بلکہ ایک درجہ سے لے کر دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3146]
حضرت شرجیل بن سمط نے حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کعب! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان فرمائیں اور اس سلسلے میں پوری احتیاط فرمائیں (کہ حدیث میں کوئی کمی بیشی نہ ہو۔) انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس آدمی کے بال اسلام میں اللہ کے راستے میں سفید ہو گئے، وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور بن جائیں گے۔ انہوں نے پھر کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اور حدیث بیان فرمائیے اور پوری پوری احتیاط فرمائیے (کہ کمی بیشی نہ ہو۔) انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تیر اندازی کیا کرو۔ جو شخص دشمن تک تیر پہنچائے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا۔ (یہ سن کر) حضرت ابن النحام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! درجے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ درجہ تیری ماں کے گھر کی چوکھٹ کے برابر نہیں بلکہ (جنت کے) دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العتق 14 (3967)، سنن ابن ماجہ/العتق 4 (2522)، (تحفة الأشراف: 11163)، مسند احمد (4/235-236) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (1634) قال أبو داود: سالم لم يسمع من شرحبيل،مات شرحبيل بصفين (سنن أبى داود: 3967 طرفه الآخر) ولأصل الحديث شواهد عند مسلم (1509) والحميدي ( 767) وغيرهما. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3147
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيّ يُحَدِّثُ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ فِيهِ نِسْيَانٌ وَلَا تَنَقُّصٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَبَلَغَ الْعَدُوَّ، أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، كَانَ فِدَاءُ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ، عُضْوًا مِنْهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو (آزاد کرنے والے کے) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (لڑتے لڑتے) بوڑھا ہو گیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3147]
حضرت شرجیل بن سمط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (حضرت عمرو رضی اللہ عنہ) سے کہا: اے عمرو! ہمیں کوئی حدیث بیان فرمائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، اس میں کوئی بھول چوک یا کمی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر چلایا اور دشمن تک پہنچا دیا، (وہ تیر دشمن کو) لگا یا نہ لگا، وہ اس کے لیے ایک غلام کی آزادی کی طرح ہوگا۔ اور جس شخص نے کوئی مسلمان غلام آزاد کیا تو اس کا ہر عضو اس کے ہر عضو کے بدلے میں جہنم کی آگ سے آزاد ہوگا۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں (کام کرتے کرتے) بوڑھا ہو گیا تو اس کے سفید بال قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10754)، مسند احمد (4/113) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3148
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین طرح کے لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ (پہلا) تیر کا بنانے والا جس نے اچھی نیت سے تیر تیار کیا ہو، (دوسرا) تیر کا چلانے والا (تیسرا) تیر اٹھا اٹھا کر پکڑانے اور چلانے کے لیے دینے والا (تینوں ہی جنت میں جائیں گے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3148]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین اشخاص کو جنت میں داخل فرمائے گا: بنانے والا، جو اسے بناتے وقت نیکی کا ذہن رکھتا ہے، تیر پھینکنے والا اور تیر پکڑنے والا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 24 (2513) مطولا، (تحفة الأشراف: 9922) (ضعیف) (اس کے راوی ”خالد بن زید یا یزید‘‘ لین الحدیث ہیں) ویأتي عند المؤلف في الخیل 8 برقم 3608حدیث کے بعض دوسرے الفاظ وطرق کے لیے دیکھئے: سنن ابی داود 2513)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں