سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: تَزْوِيجِ الزَّانِيَةِ
باب: زانی اور بدکار عورت سے شادی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3230
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، وَكَانَ رَجُلًا شَدِيدًا، وَكَانَ يَحْمِلُ الْأُسَارَى مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَدَعَوْتُ رَجُلًا لِأَحْمِلَهُ وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ، يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، خَرَجَتْ، فَرَأَتْ سَوَادِي فِي ظِلِّ الْحَائِطِ، فَقَالَتْ: مَنْ هَذَا مَرْثَدٌ مَرْحَبًا وَأَهْلًا يَا مَرْثَدُ انْطَلِقْ اللَّيْلَةَ، فَبِتْ عِنْدَنَا فِي الرَّحْلِ، قُلْتُ: يَا عَنَاقُ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ الزِّنَا" , قَالَتْ: يَا أَهْلَ الْخِيَامِ هَذَا الدُّلْدُلُ هَذَا الَّذِي يَحْمِلُ أُسَرَاءَكُمْ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ، فَطَلَبَنِي ثَمَانِيَةٌ، فَجَاءُوا حَتَّى قَامُوا عَلَى رَأْسِي، فَبَالُوا، فَطَارَ بَوْلُهُمْ عَلَيَّ وَأَعْمَاهُمُ اللَّهُ عَنِّي، فَجِئْتُ إِلَى صَاحِبِي، فَحَمَلْتُهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى الْأَرَاكِ فَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَنْكِحُ عَنَاقَ فَسَكَتَ عَنِّي، فَنَزَلَتْ: وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ سورة النور آية 3، فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَيَّ وَقَالَ:" لَا تَنْكِحْهَا".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ ایک سخت اور زور آور آدمی تھے، قیدیوں کو مکہ سے مدینہ منتقل کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو بلایا کہ اسے سواری پر ساتھ لیتا جاؤں، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، وہ (گھر سے باہر) نکلی، دیوار کی پرچھائیوں میں میرے وجود کو (یعنی مجھے) دیکھا، بولی کون ہے؟ مرثد! خوش آمدید اپنوں میں آ گئے، مرثد! آج رات چلو ہمارے ڈیرے پر ہمارے پاس رات کو سوؤ، میں نے کہا: عناق! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے، اس نے کہا: خیمہ والو! یہ دلدل ہے ۱؎ یہ وہ (پرندہ) ہے جو تمہارے قیدیوں کو مکہ سے مدینہ اٹھا لے جائے گا (یہ سن کر) میں خندمہ (پہاڑ) کی طرف بڑھا (مجھے پکڑنے کے لیے) میری طلب و تلاش میں آٹھ آدمی نکلے اور میرے سر پر آ کھڑے ہوئے، انہوں نے وہاں پیشاب کیا جس کے چھینٹے مجھ پر پڑے (اتنے قریب ہونے کے باوجود وہ مجھے دیکھ نہ سکے کیونکہ) میرے حق میں اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا۔ میں (وہاں سے بچ کر) اپنے (قیدی) ساتھی کے پاس آیا اور اسے سواری پر چڑھا کر چل پڑا۔ پھر جب میں اراک پہنچا تو میں نے اس کی بیڑی کھول دی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ تو آپ خاموش رہے پھر آیت: «الزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» ”زنا کار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور نکاح نہیں کرتی“۔ (النور: ۳) نازل ہوئی، پھر (اس کے نزول کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، مذکورہ آیت پڑھی پھر فرمایا: ”اس سے شادی نہ کرو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3230]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ حضرت مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ بہت بہادر اور قوی شخص تھے۔ وہ مکہ مکرمہ سے مسلمان قیدی اٹھا کر مدینہ لے آتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے ایک مسلمان قیدی سے طے کیا کہ میں تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا۔ مکہ میں ایک بدکار عورت رہتی تھی جس کا نام عناق تھا۔ وہ (دورِ جاہلیت میں) مجھ سے ”دوستانہ“ تعلقات رکھتی تھی۔ (اس دن) وہ نکلی تو اس نے ایک دیوار کے سائے میں مجھے کھڑا دیکھا۔ کہنے لگی: کون! مرثد ہے؟ خوش آمدید اور مرحبا ہو اے مرثد! آؤ گھر چلیں، رات ہمارے پاس ٹھہرنا۔ میں نے کہا: اے عناق! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ اس نے شور مچا دیا: اے خیموں میں رہنے والو! یہ وہ خارپشت ہے جو تمہارے قیدی مکہ سے اٹھا کر مدینہ لے جاتا ہے۔ میں خندمہ پہاڑ کی طرف بھاگ نکلا (اور ایک غار میں جا چھپا)۔ آٹھ آدمی میرے پیچھے بھاگے۔ وہ آکر (عین اس غار کے اوپر) میرے سر کی سیدھ میں کھڑے ہو گئے اور پیشاب کرنے لگے۔ حتیٰ کہ ان کا پیشاب میرے اوپر گرتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مجھ سے اندھا کر دیا (اور وہ ناکام واپس چلے گئے)۔ میں پھر اپنے ساتھی کے پاس پہنچا اور اسے اٹھایا۔ جب میں اسے اٹھا کر پیلو کے درختوں کے جھنڈ میں سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں عناق سے نکاح کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر یہ آیت اتری: ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ﴾ [سورة النور: 3] ”زانی عورت سے زانی مرد یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، یہ آیت میرے سامنے تلاوت فرمائی، اور فرمایا: ”تو اس سے نکاح مت کر۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3230]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح5 (2051) مختصراً، سنن الترمذی/تفسیرسورة النور (3177)، (تحفة الأشراف: 8753) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: دلدل سے تشبیہ اس لیے دی گئی کیونکہ یہ اکثر رات میں ظاہر ہوتا ہے، اور حتیٰ المقدور سر اپنے جسم میں چھپائے رکھتا ہے۔ ۲؎: زانی عورت سے نکاح اس وقت درست ہے جب وہ عمل زنا سے تائب ہو چکی ہو اور عدت بھی پوری ہو چکی ہو اور اگر وہ زنا سے حاملہ ہو چکی ہے تو اس کی مدت عدت وضع حمل ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3231
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , وَغَيْرُهُ , عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , وَعَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَبْدُ الْكَرِيمِ يَرْفَعُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , وَهَارُونُ لَمْ يَرْفَعْهُ، قَالَا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي امْرَأَةً، هِيَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَهِيَ لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، قَالَ:" طَلِّقْهَا" , قَالَ: لَا أَصْبِرُ عَنْهَا، قَالَ:" اسْتَمْتِعْ بِهَا" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ , وَعَبْدُ الْكَرِيمِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ أَثْبَتُ مِنْهُ , وَقَدْ أَرْسَلَ الْحَدِيثَ وَهَارُونُ ثِقَةٌ، وَحَدِيثُهُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے جو مجھے سبھی لوگوں سے زیادہ محبوب ہے مگر خرابی یہ ہے کہ وہ کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہ پاؤں گا۔ تو آپ نے کہا: پھر تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ (اور وہ جو دوسروں کو تیرا مال لے لینے دیتی ہے، اسے نظر انداز کر دے)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث (صحیح) ثابت نہیں ہے، عبدالکریم (راوی) زیادہ قوی نہیں ہے اور ہارون بن رئاب (راوی) عبدالکریم سے زیادہ قوی راوی ہیں۔ انہوں نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے ہارون ثقہ راوی ہیں اور ان کی حدیث عبدالکریم کی حدیث کے مقابل میں زیادہ صحیح اور درست لگتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3231]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے نکاح میں ایک عورت ہے جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ پیاری ہے مگر وہ کسی چھیڑ چھاڑ کرنے والے کو نہیں روکتی۔ آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دے۔“ وہ کہنے لگا: میں اس سے صبر نہیں کر سکتا۔ آپ نے فرمایا: ”پھر اسی طرح فائدہ اٹھاتا رہ۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ عبدالکریم (راوی) قوی نہیں ہے، جبکہ ہارون بن رئاب اس سے زیادہ بہتر ہے اور اس نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے۔ چونکہ ہارون ثقہ ہے، لہٰذا عبدالکریم کے بجائے اس کی حدیث صحیح کہلانے کے زیادہ لائق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5807)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3495 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس کے دو مفہوم ہیں، ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتی ہے، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ شوہر کا مال ہر مانگنے والے کو اس کی اجازت کے بغیر دے دیتی ہے، یہ مفہوم مناسب اور بہتر ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا کہنا ہے: یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی فاجرہ عورت کو روکے رکھنے کا مشورہ دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح