🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. بَابُ: إِحْلاَلِ الْفَرْجِ
باب: شرمگاہ کو کسی کے لیے حلال کر دینا (درست نہیں ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3362
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، قَالَ:" إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ".
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے (آدمی کو) سو کوڑے ماروں گا ۱؎، اور اگر اس (کی بیوی) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3362]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا تھا، فرمایا: اگر اس (کی بیوی) نے اپنی لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے لونڈی کو اس کے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے رجم کر دوں گا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 28 (4458)، سنن الترمذی/الحدود 21 (1452)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2551)، (تحفة الأشراف: 11613)، مسند احمد (4/272، 273، 275، 276، 277)، سنن الدارمی/الحدود 20 (2375) (ضعیف) (اس کے راوی ”حبیب بن سالم‘‘ میں بہت کلام ہے، نیز خطابی کے بقول: نعمان رضی الله عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ بغیر جائز صورت کے کسی کے لیے کسی کی شرمگاہ حلال نہیں ہوتی، اس لیے بطور تأدیب اسے سو کوڑے لگیں گے۔ ۲؎: اس لیے کہ اس نے شادی شدہ ہوتے ہوئے جرم زنا کا ارتکاب کیا۔ اکثر اہل علم کا عمل اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی بیوی کی لونڈی سے اگر جماع کرے تو اس پر حد نہیں پڑے گی۔ ان کا خیال ہے کہ نعمان بن بشیر کو اس مسئلہ میں دھوکا ہو گیا ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَيُنْبَزُ قُرْقُورًا، أَنَّهُ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، فَقَالَ:" لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ، فَكَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجُلِدَ مِائَةً"، قَالَ قَتَادَةُ: فَكَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا.
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے (برے لقب) «قرقور» ۱؎ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت (زنا) کر بیٹھا، یہ معاملہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کر دیا تھا تب تو (تعزیراً) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا۔ (پوچھنے پر پتہ لگا کہ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو (خط) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3363]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی جس کا نام عبدالرحمن بن حنین اور لقب قرقور تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا۔ اس شخص کو (گورنر مکہ) حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ کروں گا کہ اگر اس (تیری بیوی) نے اس لونڈی کو تیرے لیے حلال کیا تھا تو تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کر دوں گا۔ (تحقیق سے پتہ چلا کہ) اس کی بیوی نے اس لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا ہوا تھا، اس لیے کوڑے مارے گئے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حبیب بن سالم رحمہ اللہ کو خط لکھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث لکھ کر بھیجی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: «قرقور» لمبی کشتی کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3364
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ:" إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَأَجْلِدْهُ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَأَرْجُمْهُ".
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے اسے اس کی اجازت دے دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اس نے اس کے لیے اسے حلال نہ کیا ہو گا تو میں اسے (یعنی شوہر کو) سنگسار کر دوں گا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3364]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا تھا، فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے رجم کروں گا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3362 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3365
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، قَالَ:" قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا".
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا (اس طرح) فرمایا: اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی اور اگر (مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس (مرد) کی ہو جائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3365]
حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کیا تھا، فیصلہ فرمایا: اگر اس نے اس سے زبردستی کی ہے تو وہ لونڈی (اس کے مال سے) آزاد ہو جائے گی اور اسے اس کی مالکہ کو اس جیسی ایک اور لونڈی دینی ہو گی، اور اگر لونڈی کی رضا و رغبت سے جماع کیا ہے تو وہ لونڈی اس کی بن جائے گی، البتہ اس مرد کو اس جیسی ایک اور لونڈی بیوی کو دینی ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 28 (4460)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2552) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4559)، مسند احمد (3/476 و5/6) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3366
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ: أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ جَارِيَةً لِامْرَأَتِهِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ مَالِهِ، وَعَلَيْهِ الشَّرْوَى لِسَيِّدَتِهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لِسَيِّدَتِهَا وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ".
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا، یہ قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر اس نے اس لونڈی کے ساتھ زنا بالجبر (زبردستی زنا) کیا ہے تو یہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو گی اور اسے اس جیسی دوسری لونڈی اس کی مالکہ کو دینی ہو گی اور اگر لونڈی نے اس کام میں مرد کا ساتھ دیا ہے (اور اس کی خوشی و رضا مندی سے یہ کام ہوا ہے) تو یہ لونڈی اپنی مالکہ (یعنی بیوی) ہی کی رہے گی اور اس (شوہر) کے مال سے اس جیسی دوسری لونڈی (خرید کر) اس کی مالکہ کو ملے گی (گویا یہ پرائی عورت سے جماع کرنے کا جرمانہ ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3366]
حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا، یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس شخص نے اس سے جبراً جماع کیا ہے تو وہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو جائے گی اور خاوند کو اس جیسی لونڈی اس کی مالکہ (یعنی اپنی بیوی) کو دینی ہو گی اور اگر وہ راضی اور خوش تھی تو وہ اپنی مالکہ ہی کی رہے گی اور مرد کو اپنے مال سے ایک اور لونڈی بیوی کو دینی ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں