یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب : إحلال الفرج
باب: شرمگاہ کو کسی کے لیے حلال کر دینا (درست نہیں ہے)۔
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَيُنْبَزُ قُرْقُورًا، أَنَّهُ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، فَقَالَ:" لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ، فَكَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجُلِدَ مِائَةً"، قَالَ قَتَادَةُ: فَكَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا.
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے (برے لقب) «قرقور» ۱؎ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت (زنا) کر بیٹھا، یہ معاملہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کر دیا تھا تب تو (تعزیراً) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا۔ (پوچھنے پر پتہ لگا کہ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو (خط) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3363]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی جس کا نام عبدالرحمن بن حنین اور لقب قرقور تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا۔ اس شخص کو (گورنر مکہ) حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ کروں گا کہ ”اگر اس (تیری بیوی) نے اس لونڈی کو تیرے لیے حلال کیا تھا تو تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کر دوں گا۔“ (تحقیق سے پتہ چلا کہ) اس کی بیوی نے اس لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا ہوا تھا، اس لیے کوڑے مارے گئے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حبیب بن سالم رحمہ اللہ کو خط لکھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث لکھ کر بھیجی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: «قرقور» لمبی کشتی کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حبيب بن سالم الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← حبيب بن سالم الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد الله النعمان بن بشير الأنصاري ← قتادة بن دعامة السدوسي | صحابي صغير | |
👤←👥حبيب بن سالم الأنصاري حبيب بن سالم الأنصاري ← النعمان بن بشير الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥خالد بن عرفطة خالد بن عرفطة ← حبيب بن سالم الأنصاري | مقبول | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← خالد بن عرفطة | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد أبان بن يزيد العطار ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة | |
👤←👥حبان بن هلال الباهلي، أبو حبيب حبان بن هلال الباهلي ← أبان بن يزيد العطار | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن معمر الحصري محمد بن معمر الحصري ← حبان بن هلال الباهلي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1451
| لئن كانت أحلتها له لأجلدنه مائة وإن لم تكن أحلتها له رجمته |
سنن أبي داود |
4459
| إن كانت أحلتها له جلد مائة وإن لم تكن أحلتها له رجمته |
سنن النسائى الصغرى |
3362
| إن كانت أحلتها له جلدته مائة وإن لم تكن أحلتها له رجمته |
سنن النسائى الصغرى |
3363
| إن كانت أحلتها لك جلدتك وإن لم تكن أحلتها لك رجمتك بالحجارة فكانت أحلتها له فجلد مائة |
سنن النسائى الصغرى |
3364
| إن كانت أحلتها له فأجلده مائة وإن لم تكن أحلتها له فأرجمه |
Sunan an-Nasa'i Hadith 3363 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← حبيب بن سالم الأنصاري