سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابُ: إِسْلاَمِ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ وَتَخْيِيرِ الْوَلَدِ
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے تو نابالغ بیٹے کو کسی ایک کے ساتھ ہو جانے کا اختیار دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3525
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ , أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَجَاءَ ابْنٌ لَهُمَا صَغِيرٌ لَمْ يَبْلُغْ الْحُلُمَ، فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبَ هَا هُنَا وَالْأُمَّ هَا هُنَا، ثُمَّ خَيَّرَهُ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهِ، فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ".
سلمہ انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے اور ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان دونوں کا ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بٹھا لیا، باپ بھی وہیں تھا اور ماں بھی وہیں تھی۔ آپ نے اسے اختیار دیا (ماں باپ میں سے جس کے ساتھ بھی تو ہونا چاہے اس کے ساتھ ہو جا) اور ساتھ ہی کہا (یعنی دعا کی) اے اللہ اسے ہدایت دے تو وہ باپ کی طرف ہو لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3525]
حضرت عبدالحمید بن سلمہ انصاری کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسلمان ہو گیا لیکن میری بیوی نے اسلام لانے سے انکار کر دیا۔ ہمارا ایک چھوٹا بچہ آیا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو ایک طرف بٹھا لیا اور ماں کو دوسری طرف، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اختیار دیا اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اهْدِهِ» ”اے اللہ! اسے ہدایت دے۔“ چنانچہ وہ بچہ (اللہ کی توفیق سے) باپ کی طرف چلا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 26 (2244)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 22 (2352)، (تحفة الأشراف: 3594)، مسند احمد (5/446، 447) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3526
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ:" إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، فَجَاءَ زَوْجُهَا، وَقَالَ: مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي ابْنِي، فَقَالَ:" يَا غُلَامُ، هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ".
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ (و آرام) ہے، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی (لا کر) پلاتا ہے، (اتنے میں) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا: کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا (اور اختلاف) کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے بیٹے سے کہا:) اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3526]
حضرت ابومیمونہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو انہوں نے فرمایا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! میرا (سابقہ) خاوند میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے جب کہ وہ مجھے بہت نفع دیتا ہے، مثلاً «بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ» ”بئر ابی عنبہ“ سے مجھے پانی لا کر دے دیتا ہے۔ اتنے میں اس کا خاوند بھی آ گیا اور کہنے لگا: میرے بیٹے کے بارے میں کون مجھ سے جھگڑا کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لڑکے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں، جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے۔“ اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 35 (2277) مطولا، سنن الترمذی/الأحکام 21 (1357)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 22 (2351، 2352)، (تحفة الأشراف: 15463)، مسند احمد (2/447)، سنن الدارمی/الطلاق 16 (2339) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح