سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. بَابُ: الإِحْدَادِ
باب: سوگ منانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3555
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے اپنے شوہر کے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3555]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، البتہ وہ خاوند پر (وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی)۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 9 (1491)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 35 (2085)، (تحفة الأشراف: 16441)، مسند احمد (6/37، 148، 249) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عورت شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3556
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو شوہر کے سوا کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3556]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16461)، مسند احمد (6/249، 281)، سنن الدارمی/الطلاق 12 (2329) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح