🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. بَابُ : الإِحْدَادِ
باب: سوگ منانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3556
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو شوہر کے سوا کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3556]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16461)، مسند احمد (6/249، 281)، سنن الدارمی/الطلاق 12 (2329) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سليمان بن كثير العبدي، أبو محمد، أبو داود
Newسليمان بن كثير العبدي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥حبان بن هلال الباهلي، أبو حبيب
Newحبان بن هلال الباهلي ← سليمان بن كثير العبدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن معمر الحصري
Newمحمد بن معمر الحصري ← حبان بن هلال الباهلي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3555
لا يحل لامرأة تحد على ميت أكثر من ثلاث إلا على زوجها
سنن النسائى الصغرى
3556
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاثة أيام إلا على زوج
صحيح مسلم
3739
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوجها
سنن ابن ماجه
2085
لا يحل لامرأة أن تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3556 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3556
اردو حاشہ:
”ایمان رکھتی ہے“ شریعت کے احکام ایمان والوں ہی کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھنے والوں کے لیے نیکی‘ بدی اور گناہ ثواب کا تصور ہی فضول ہے۔ عورت کا ذکر سیاقِ کلام کے اعتبار سے ہے‘ وگرنہ یہ حکم مردوں کے لیے بھی اس طرح ہے۔ البتہ ان کے لیے بیوی پر سوگ عام حالات کے برابر ہی ہے اور لازم بھی نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے‘ حدیث:3531)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3556]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2085
کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2085]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
خاوند کے علاوہ دوسرے قریبی رشتے داروں کی وفات پر بھی افسوس کے اظہار کے لیے زیب و زینت نہ کرنا درست ہے۔

(2)
اظہار افسوس کے لیے تین دن تک زینت ترک کرنی چاہیے۔

(3)
خاوند کی وفات پوری عدت دوران زیب و زینت سے پرہیز کیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2085]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3556 in Urdu