🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ: الشِّكَالِ فِي الْخَيْلِ
باب: شکال گھوڑے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3596
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ"، وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «شکال» گھوڑا ناپسند فرماتے تھے۔ اس حدیث کے الفاظ اسماعیل راوی کی روایت کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3596]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے میں «الشِّكَالِ» شکال کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ الفاظ اسماعیل بن مسعود کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 27 (1875)، (تحفة الأشراف: 14894)، مسند احمد (2/457، 460) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ راوی نے «شکال» کی تفسیر کی ہے، اہل لغت کے نزدیک گھوڑوں میں «شکال» یہ ہے کہ اس کے تین پاؤں سفید ہوں، اور ایک باقی بدن کے ہم رنگ ہو یا اس کے برعکس ہو، یعنی ایک پاؤں سفید اور باقی تین پاؤں باقی بدن کے ہم رنگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3597
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَرِهَ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الشِّكَالُ مِنَ الْخَيْلِ: أَنْ تَكُونَ ثَلَاثُ قَوَائِمَ مُحَجَّلَةً، وَوَاحِدَةٌ مُطْلَقَةً، أَوْ تَكُونَ الثَّلَاثَةُ مُطْلَقَةً، وَرِجْلٌ مُحَجَّلَةً، وَلَيْسَ يَكُونُ الشِّكَالُ إِلَّا فِي رِجْلٍ وَلَا يَكُونُ فِي الْيَدِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «شکال» گھوڑا ناپسند فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: گھوڑے کا «شکال» یہ ہے کہ اس کے تین پیر سفید ہوں اور ایک کسی اور رنگ کا ہو یا تین پیر کسی اور رنگ کے ہوں اور ایک سفید ہو، «شکال» ہمیشہ پیروں میں ہوتا ہے ہاتھ میں نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3597]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے میں شکال کو ناپسند فرمایا ہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ شکال یہ ہے کہ تین پاؤں تو سفید ہوں مگر ایک عام رنگ کا ہو، یا تین پاؤں عام رنگ کے ہوں اور ایک سفید ہو، نیز شکال پاؤں میں ہوتا ہے، ہاتھوں میں نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 27 (1875)، سنن ابی داود/الجہاد 46 (2547)، سنن الترمذی/الجہاد 21 (1698)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 14 (2790)، (تحفة الأشراف: 14890)، مسند احمد (2/250، 436، 476) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں