صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِالْمُزْدَلِفَةِ:
باب: مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھنا۔
حدیث نمبر: 1672
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، فَنَزَلَ الشِّعْبَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، فَجَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے کہا، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں کریب نے، انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ میدان عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو کر گھاٹی میں اترے (جو مزدلفہ کے قریب ہے) وہاں پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور پورا وضو نہیں کیا (خوب پانی نہیں بہایا ہلکا وضو کیا) میں نے نماز کے متعلق عرض کی تو فرمایا کہ نماز آگے ہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے وہاں پھر وضو کیا اور پوری طرح کیا پھر نماز کی تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ ڈیروں پر بٹھا دیئے پھر دوبارہ نماز عشاء کے لیے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (سنت یا نفل) نماز نہیں پڑھی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1672]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے تو گھاٹی میں اترے۔ وہاں پیشاب کیا۔ پھر وضو فرمایا لیکن پورا نہیں بلکہ ہلکا سا تھا۔ میں نے آپ سے عرض کیا: نماز پڑھنی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز تو آگے ہوگی۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وضو کیا، یعنی کامل وضو کیا۔ پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو آپ نے نماز مغرب پڑھی۔ پھر ہر آدمی نے اپنا اونٹ اپنے ٹھکانے پر بٹھایا۔ پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو آپ نے نماز عشاء پڑھائی اور ان کے درمیان کوئی نفل وغیرہ نہیں پڑھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة