🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

97. بَابُ مَنْ أَذَّنَ وَأَقَامَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا:
باب: جس نے کہا کہ ہر نماز کے لیے اذان اور تکبیر کہنی چاہئے اس کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1675
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: حَجَّ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ حِينَ الْأَذَانِ بِالْعَتَمَةِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَ رَجُلًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَصَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَمَرَ أُرَى فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، قَالَ عَمْرٌو: لَا أَعْلَمُ الشَّكَّ إِلَّا مِنْ زُهَيْرٍ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ , قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِنْ هَذَا الْيَوْمِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هُمَا صَلَاتَانِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا، صَلَاةُ الْمَغْرِبِ بَعْدَ مَا يَأْتِي النَّاسُ الْمُزْدَلِفَةَ، وَالْفَجْرُ حِينَ يَبْزُغُ الْفَجْرُ" , قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسحٰق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حج کیا، آپ کے ساتھ تقریباً عشاء کی اذان کے وقت ہم مزدلفہ میں بھی آئے، آپ نے ایک شخص کو حکم دیا اس نے اذان اور تکبیر کہی اور آپ نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت (سنت) اور پڑھی اور شام کا کھانا منگوا کر کھایا۔ میرا خیال ہے (راوی حدیث زہیر کا) کہ پھر آپ نے حکم دیا اور اس شخص نے اذان دی اور تکبیر کہی عمرو (راوی حدیث) نے کہا میں یہی سمجھتا ہوں کہ شک زہیر (عمرو کے شیخ) کو تھا، اس کے بعد عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی۔ جب صبح صادق ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز (فجر) کو اس مقام اور اس دن کے سوا اور کبھی اس وقت (طلوع فجر ہوتے ہی) نہیں پڑھتے تھے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ صرف دو نمازیں (آج کے دن) اپنے معمولی وقت سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ جب لوگ مزدلفہ آتے ہیں تو مغرب کی نماز (عشاء کے ساتھ ملا کر) پڑھی جاتی ہے اور فجر کی نماز طلوع فجر کے ساتھ ہی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1675]
حضرت عبدالرحمان بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو ہم اذانِ عشاء کے وقت یا اس کے قریب مزدلفہ پہنچے۔ انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے اذان اور اقامت کہی، پھر انہوں نے نمازِ مغرب ادا کی۔ اس کے بعد دو رکعت پڑھیں۔ پھر رات کا کھانا منگوا کر تناول فرمایا، پھر انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے اذان اور اقامت کہی۔ اس کے بعد انہوں نے نمازِ عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں۔ جب فجر طلوع ہوئی تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن اس نماز کے علاوہ اس مقام پر اس وقت کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا کہ یہ دو نمازیں ہیں جو اپنے وقت سے پھیر دی گئی ہیں: ایک مغرب کی نماز لوگوں کے مزدلفہ پہنچنے پر، دوسری فجر کی نماز جبکہ فجر ظاہر ہو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں