سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ: إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ
باب: جب کوئی اپنا مال نذر کے طور پر ہدیہ کر دے۔
حدیث نمبر: 3855
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ يُونُسَ , قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ: فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ مُخْتَصَرٌ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3855]
حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا، جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنے مال کو اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اپنے مال سے لاتعلق ہو جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال رکھ لے۔ یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“ میں نے کہا: میں اپنی خیبر والی جائیداد رکھ لیتا ہوں۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3454 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3856
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَيَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ (کہتے ہیں:) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا (کچھ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3856]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا واقعہ بیان فرماتے ہوئے سنا، جب وہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اس سے لا تعلق ہوجاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال رکھ لے، یہ تیرے لیے بہتر ہوگا۔“ میں نے کہا: میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3854 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ , وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. فَقَالَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ , فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3857]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی ہے، نیز میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کی خاطر صدقہ کرتے ہوئے اس سے لاتعلق ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال رکھ لے، یہ تیرے لیے بہتر ہوگا۔“ میں نے کہا: ٹھیک ہے، میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11160) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح