سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ: هَلْ تَدْخُلُ الأَرَضُونَ فِي الْمَالِ إِذَا نَذَرَ
باب: مال کی نذر مانی جائے تو کیا زمین بھی اس میں شامل ہو گی؟
حدیث نمبر: 3858
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ , فَلَمْ نَغْنَمْ إِلَّا الْأَمْوَالَ , وَالْمَتَاعَ , وَالثِّيَابَ , فَأَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ يُقَالُ لَهُ: رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ فَوُجِّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى , حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى بَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَهُ سَهْمٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ , فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ , مِنَ الْمَغَانِمِ , لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ بِذَلِكَ , جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ , أَوْ بِشِرَاكَيْنِ , إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے سال ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں مال ۱؎، سامان اور کپڑوں کے علاوہ کوئی غنیمت نہ ملی تو بنو ضبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعم نامی ایک کالا غلام ہدیہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی قریٰ کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوا اتار رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا اور اسے قتل کر ڈالا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں جنت مبارک ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ کملی جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے روز لے لی تھی (اور مال تقسیم نہ ہوا تھا) اس کے سر پر آگ بن کر دہک رہی ہے“۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چمڑے کا ایک یا دو تسمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3858]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم غزوۂ خیبر والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہمیں غنیمت میں صرف مال، گھریلو سامان اور کپڑے وغیرہ ہی ملے تھے۔ بنو ضبیب کے ایک آدمی حضرت رفاعہ بن زید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کالا غلام بطور تحفہ دیا۔ اس کا نام مدعم تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادئ قریٰ کی جانب چلے۔ جب ہم وادئ قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی سواری) کا پالان وغیرہ اتار رہا تھا کہ ایک تیر آیا، اسے لگا اور اسے ختم کر دیا۔ لوگ کہنے لگے: اسے جنت مبارک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ وہ چادر جو اس نے غزوۂ خیبر کے دن (میری اجازت کے بغیر) مالِ غنیمت سے اٹھائی تھی، وہ اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔“ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو کوئی آدمی ایک تسمہ، کوئی دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تسمہ یا دو تسمے آگ کے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (4234)، الأیمان 33 (6707)، صحیح مسلم/الإیمان 48 (115)، سنن ابی داود/الجہاد 143 (2711)، موطا امام مالک/الجہاد 13 (25)، (تحفة الأشراف: 12916) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی لفظ میں باب سے مطابقت ہے، کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اموال کے لفظ سے زمینیں (آراضی) مراد لی ہیں (خیبر میں زیادہ زمینیں مال غنیمت میں ہاتھ آئی تھیں) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی صرف ”مال“ کی نذر مانے تو اس مال میں زمین بھی داخل گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري