صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. بَابُ: {فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ}:
باب: (سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں) پس جو شخص تمتع کرے حج کے ساتھ عمرہ کا یعنی حج تمتع کر کے فائدہ اٹھائے تو اس پر ہے جو کچھ میسر ہو قربانی سے اور اگر کسی کو قربانی میسر نہ ہو تو تین دن کے روزے ایام حج میں اور سات دن کے روزے گھر واپس ہونے پر رکھے، یہ پورے دس دن (کے روزے) ہوئے، یہ آسانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجد کے پاس نہ رہتے ہوں۔
حدیث نمبر: 1688
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ:" سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْمُتْعَةِ، فَأَمَرَنِي بِهَا، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْهَدْيِ، فَقَالَ: فِيهَا جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ، قَالَ: وَكَأَنَّ نَاسًا كَرِهُوهَا فَنِمْتُ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ إِنْسَانًا يُنَادِي حَجٌّ مَبْرُورٌ وَمُتْعَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: وَقَالَ آدَمُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَغُنْدَرٌ: عَنْ شُعْبَةَ، عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں نضر بن شمیل نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے اس کے کرنے کا حکم دیا، پھر میں نے قربانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمتع میں ایک اونٹ، یا ایک گائے یا ایک بکری (کی قربانی واجب ہے) یا کسی قربانی (اونٹ، یا گائے بھینس کی) میں شریک ہو جائے، ابوجمرہ نے کہا کہ بعض لوگ تمتع کو ناپسندیدہ قرار دیتے تھے۔ پھر میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص پکار رہا ہے یہ حج مبرور ہے اور یہ مقبول تمتع ہے۔ اب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کہا کہ وہب بن جریر اور غندر نے شعبہ کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے «عمرة متقبلة، وحج مبرور» (اس میں عمرہ کا ذکر پہلے ہے یعنی یہ عمرہ مقبول اور حج مبرور ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1688]
حضرت ابو جمرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے تمتع کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے اسے عمل میں لانے کا حکم دیا۔ اور میں نے ہدی کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: تمتع میں اونٹ، گائے یا بکری کافی ہے اور قربانی میں شرکت بھی ہو سکتی ہے۔ ابو جمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں نے تو اسے مکروہ خیال کیا، چنانچہ میں سویا تو خواب میں دیکھا کہ ایک شخص باآواز بلند پکار رہا ہے: حج مبرور اور تمتع قبول ہے۔ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے خواب بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے!“ یہ تو ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آدم، وہب بن جریر اور غندر رحمہ اللہ نے شعبہ رحمہ اللہ سے بایں الفاظ اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ عمرہ قبول اور حج مبرور ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة