🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ
باب: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4089
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنا مال بچانے کے لیے لڑا اور مارا گیا تو وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4089]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو اپنے مال کو (ڈاکوؤں وغیرہ سے) بچانے کے لیے لڑائی کرے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8900) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4090
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَقُتِلَ، فَهُوَ شَهِيدٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنے مال کو بچانے کے لیے لڑے اور مارا جائے وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4090]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں لڑتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8840) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4091
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَلَهُ الْجَنَّةُ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مظلوم مارا گیا اس کے لیے جنت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4091]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت میں مظلوم مارا جائے، اس کے لیے جنت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 33 (2480)، (تحفة الأشراف: 8891)، مسند احمد (2/223) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4092
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهُذَيْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کی میں مارا گیا وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4092]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4093
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ , فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ". هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناحق جس کا مال چھینا جائے اور وہ لڑے پھر مارا جائے وہ شہید ہے۔ (امام نسائی کہتے ہیں:) یہ حدیث غلط ہے، صحیح سعیر بن خمس کی حدیث ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4093]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا مال ناحق چھیننے کی کوشش کی جائے اور وہ لڑتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہو گا۔ (امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا:) یہ (روایت) غلط ہے، سعیر بن خمس کی (اس سے پہلی) روایت درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/السنة 23 (4771)، سنن الترمذی/الدیات 22 (1419، 1420)، (تحفة الأشراف: 8603)، مسند احمد (2/193، 194، 217) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض نسخوں کے مطابق خطا سعیر بن خمس کی حدیث میں ہے نہ کہ اس حدیث میں، اور خطا سے مراد سند میں خطا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4094
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4094]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4089 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4095
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ , وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، قَالَا: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا تو وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4095]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے۔ یہ (حدیث) مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/السنة 32 (4772)، سنن الترمذی/الدیات 22 (1421)، سنن ابن ماجہ/الحدود 21 (2580)، (تحفة الأشراف: 4456)، مسند احمد (1/187، 189، 190)، ویأتي فیما یلي، وبرقم: 4096، 4099، 4100 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4096
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے لڑائی کی (اور مارا گیا) وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4096]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا لڑائی لڑے (اور مارا جائے) وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4097
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4097]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کو (ڈاکوؤں سے) بچاتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1941) (صحیح) (اس کے راوی ”مومل“ حافظہ کے کمزور راوی ہیں، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4098
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ الْمُؤَمَّلِ خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ابو جعفر الباقر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظلم سے بچنے میں مارا جائے تو وہ شہید ہے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: مؤمل کی حدیث غلط ہے، صحیح عبدالرحمٰن کی حدیث ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4098]
حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ظالم کے مقابلے میں مارا جائے، وہ شہید ہے۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مؤمل کی (سابقہ) حدیث غلط ہے جبکہ عبدالرحمن کی (یہی) حدیث درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ مرسل روایت ہے، مگر سعید بن زید رضی الله عنہ کی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: مومل کی حدیث سے مطلب حدیث رقم ۴۰۹۷ ہے جو مرفوع ہے، اور عبدالرحمٰن کی حدیث سے مطلب یہ مرسل روایت ہے، یعنی اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، بہرحال سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں