🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الْجِهَادِ
باب: جہاد پر بیعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4165
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنَ أَخِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي أُمَيَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ , وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ".
یعلیٰ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فتح مکہ کے دن ابوامیہ کو لے کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ نے ہجرت پر بیعت کر لی ہے۔ تو آپ نے فرمایا: میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں اور ہجرت کا سلسلہ تو بند ہو گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4165]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں فتح مکہ کے دن اپنے والد حضرت امیہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والد سے ہجرت کی بیعت لے لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے جہاد کی بیعت لیتا ہوں۔ ہجرت تو اب ختم ہوچکی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11843)، وأعادہ المؤلف برقم 4173 (ضعیف) (اس کے راوی ’’عمرو بن عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مکہ سے ہجرت کا سلسلہ بند ہو گیا کیونکہ مکہ تو دارالاسلام بن چکا ہے، البتہ دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عمرو بن عبد الرحمن بن أمية مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 352

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4166
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ , وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ:" تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا , وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ". خَالَفَهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اور اس وقت آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی): تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنے بچوں کو قتل نہیں کرو گے، اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے، کسی معروف (بھلی بات) میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ (بیعت کے بعد) جو ان باتوں کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، تم میں سے کسی نے کوئی غلطی کی ۱؎ اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس نے غلطی کی اور اللہ نے اسے چھپائے رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہو گا، اگر وہ چاہے تو معاف کر دے اور چاہے تو سزا دے۔ احمد بن سعید نے اسے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4166]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد صحابہ کرام کی ایک جماعت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی پر اپنی طرف سے گھڑ کر جھوٹ و بہتان نہیں باندھو گے اور کسی نیکی کے کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے، پھر جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا، اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ اور تم میں سے جس شخص نے ان میں سے کوئی کام کر لیا اور اس کو (دنیا میں) اس کی سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے گناہ کو مٹا دے گی۔ اور جس شخص نے ان میں سے کوئی کام کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، چاہے معاف فرمائے، چاہے سزا دے۔ احمد بن سعید نے (عبید اللہ بن سعد کی) مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 11 (18)، مناقب الأنصار 43 (3892)، المغازي 12 (3999)، تفسیرالممتحنة 3 (4894)، الحدود 8 (6784)، 14 (6801)، الدیات 2 (6873)، الأحکام 49 (7213)، التوحید31 (7468)، صحیح مسلم/الحدود 10 (1709)، سنن الترمذی/الحدود 12 (1439)، (تحفة الأشراف: 5094)، مسند احمد (5/314)، سنن الدارمی/السیر 17 (2497)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1483، و4215، و5005 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی شرک کے علاوہ، کیونکہ توبہ کے سوا شرک کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ ۲؎: یہ اختلاف اس طرح ہے کہ احمد بن سعید کی روایت (جو آگے آ رہی ہے) میں صالح بن کیسان اور زہری کے درمیان حارث بن فضیل کا اضافہ ہے، اور زہری اور عبادہ بن صامت کے درمیان ابوادریس خولانی کا اضافہ نہیں ہے، اس اختلاف سے اصل حدیث کی صحت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4167
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا تُبَايِعُونِي عَلَى مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءُ، أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ"، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا فَنَالَتْهُ عُقُوبَةٌ فَهُوَ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ لَمْ تَنَلْهُ عُقُوبَةٌ , فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھ سے ان باتوں پر بیعت نہیں کرو گے جن پر عورتوں نے بیعت کی ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، نہ اپنے بچوں کو قتل کرو گے اور نہ خود سے گھڑ کر بہتان لگاؤ گے، اور نہ کسی معروف (اچھے کام) میں میری نافرمانی کرو گے؟، ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! چنانچہ ہم نے ان باتوں پر آپ سے بیعت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس کے بعد کوئی گناہ کیا اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہی اس کا کفارہ ہے، اور جسے اس کی سزا نہیں ملی تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہے، اگر چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور چاہے گا تو سزا دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4167]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کاموں کی مجھ سے بیعت نہیں کرتے جن کی عورتوں نے بیعت کی ہے؟ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی پر اپنی طرف سے گھڑ کر بہتان نہیں باندھو گے اور کسی اچھے کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ (ہم بیعت کریں) پھر ہم نے ان کاموں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد جس نے ان میں سے کوئی کام کیا اور اس کو سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے گناہ کو مٹا دے گی اور جس کو (دنیا میں) سزا نہ ملی تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، چاہے وہ اسے معاف فرما دے، چاہے سزا دے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں