سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4168
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَقَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ:" ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے ہجرت پر بیعت کروں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے چھوڑا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ان کے پاس واپس جاؤ اور انہیں جس طرح تم نے رلایا ہے اسی طرح ہنساؤ“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4168]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے آیا ہوں جبکہ میں اپنے ماں باپ کو روتا چھوڑ آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا اور جیسے تو نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنسا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 33 (2528)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 12 (2782)، (تحفة الأشراف: 8640)، مسند احمد (2/160، 194، 197، 198، 204) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت پر بیعت کرنے سے انکار نہیں کیا، صرف اس آدمی کے مخصوص حالات کی بنا پر ہجرت کی بجائے ماں باپ کی خدمت میں لگے رہنے کی ہدایت کی، اس لیے اس حدیث سے ہجرت پر بیعت لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن