🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

106. بَابُ مَنْ أَشْعَرَ وَقَلَّدَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أَحْرَمَ:
باب: جس نے ذو الحلیفہ میں اشعار کیا اور قلادہ پہنایا پھر احرام باندھا!۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1694
وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا أَهْدَى مِنْ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يَطْعُنُ فِي شِقِّ سَنَامِهِ الْأَيْمَنِ بِالشَّفْرَةِ وَوَجْهُهَا قِبَلَ الْقِبْلَةِ بَارِكَةً.
‏‏‏‏ اور نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مدینہ سے قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے کر جاتے تو ذو الحلیفہ سے اسے ہار پہنا دیتے اور اشعار کر دیتے اس طرح کہ جب اونٹ اپنا منہ قبلہ کی طرف کئے بیٹھا ہوتا تو اس کے داہنے کوہان میں نیزے سے زخم لگا دیتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: Q1694]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے تقریباً اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ (حج کے لیے نکلے) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا پھر عمرہ کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1694]
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ حدیبیہ میں ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانیوں کو «قَلَادَة» قلادہ پہنایا اور ان کا «إِشْعَار» اشعار کیا، پھر عمرے کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1695
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے تقریباً اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ (حج کے لیے نکلے) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا پھر عمرہ کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1695]
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ حدیبیہ میں ایک ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانیوں کو قلادہ پہنایا اور ان کا اشعار کیا، پھر عمرے کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1696
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار میں نے اپنے ہاتھ سے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہار پہنایا، اشعار کیا، ان کو مکہ کی طرف روانہ کیا پھر بھی آپ کے لیے جو چیزیں حلال تھیں وہ (احرام سے پہلے صرف ہدی سے) حرام نہیں ہوئیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1696]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اپنے ہاتھ سے تیار کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے گلوں میں ہار ڈالے اور ان کا اشعار کیا، پھر انہیں مکہ مکرمہ روانہ کیا۔ ایسا کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہ ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہلے حلال تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں