🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. بَابُ: الضَّبِّ
باب: ضب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4319
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ سُئِلَ عَنِ الضَّبِّ؟، فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے تو ضب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: میں اسے نہ کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4319]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے کہ آپ سے سانڈے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: میں نہ تو اسے کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 3 (1790)، (تحفة الأشراف: 7240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصید 33 (5536)، صحیح مسلم/الصید 7 (1943)، موطا امام مالک/الاستئذان 4 (11)، مسند احمد (2/9، 10، 33، 41، 46، 60، 62، 74، 115)، سنن الدارمی/الصید 8 (2058) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ضب: گوہ ایک رینگنے والا جانور جو چھپکلی کے مشابہ ہوتا ہے، اس کو سوسمار بھی کہتے ہیں، سانڈا بھی گوہ کی قسم کا ایک جانور ہے جس کا تیل نکال کر گٹھیا کے درد کے لیے یا طلاء کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ جانور نجد کے علاقہ میں بہت ہوتا ہے، حجاز میں نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نہ کھایا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر یہ کھایا گیا اس لیے حلال ہے۔ جس جانور کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھایا اس کو عربی میں ضب کہتے ہیں اور خود حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ یہ نجد کے علاقہ میں پایا جانے والا جانور ہے، جو بلاشبہ حلال ہے۔ احناف اور شیعی فرقوں میں امامیہ کے نزدیک گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے، فرقہء زیدیہ کے یہاں یہ مکروہ ہے، لیکن صحیح بات اس کی حلت ہے۔ نجد کے علاقے میں پایا جانے والا یہ جانور برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) میں پائے جانے والے گوہ یا سانڈے سے بہت سی چیزوں میں مختلف ہے: ضب نامی یہ جانور صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے، اور ہندوستان میں پایا جانے والا گوہ یا سانڈاز رعی اور پانی والے علاقوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) پانی نہیں پیتا اور بلا کھائے اپنے سوراخ میں ایک لمبی مدت تک رہتا ہے، کبھی طویل صبر کے بعد اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے، جب کہ برصغیر کا گوہ پانی کے کناروں پر پایا جاتا ہے، اور خوب پانی پیتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) شریف بلکہ سادہ لوح جانور ہے، جلد شکار ہو جاتا ہے، جب کہ ہندوستانی گوہ کا پکڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ - ہندوستانی گوہ سانپ کی طرح زبان نکالتی اور پھنکارتی ہے، جب کہ نجدی ضب (گوہ) ایسا نہیں کرتی۔ نجدی ضب (گوہ) کی کھال کو پکا کر عرب اس کی کپی میں گھی رکھتے تھے، جس کو ضبة کہتے ہیں اور ہندوستانی گوہ کی کھال کا ایسا استعمال کبھی سننے میں نہیں آیا اس لیے کہ وہ بدبودار ہوتی ہے۔ ضب اور ورل میں کیا فرق ہے؟ صحرائے عرب میں ضب کے مشابہ اور اس سے بڑا بالو، اور صحراء میں پائے جانے والے جانور کو وَرَل کہتے ہیں، تاج العروس میں ہے: ورل ضب کی طرح زمین پر رینگنے والا ایک جانور ہے، جو ضب کی خلقت پر ہے، إلا یہ کہ وہ ضب سے بڑا ہوتا ہے، بالو اور صحراء میں پایا جاتا ہے، چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور ہے، جس کی دم لمبی اور سر چھوٹا ہوتا ہے، ازہری کہتے ہیں: وَرَل عمدہ قامت اور لمبی دم والا جانور ہے، گویا کہ اس کی دم سانپ کی دم کی طرح ہے، بسا اوقات اس کی دم دو ہاتھ سے بھی زیادہ لمبی ہوتی ہے، اور ضب (گوہ) کی دم گانٹھ دار ہوتی ہے، اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی، عرب ورل کو خبیث سمجھتے اور اس سے گھن کرتے ہیں، اس لیے اسے کھاتے نہیں ہیں، رہ گیا ضب تو عرب اس کا شکار کرنے اور اس کے کھانے کے حریص اور شوقین ہوتے ہیں، ضب کی دم کھُردری، سخت اور گانٹھ والی ہوتی ہے، دم کا رنگ سبز زردی مائل ہوتا ہے، اور خود ضب مٹ میلی سیاہی مائل ہوتی ہے، اور موٹا ہونے پر اس کا سینہ پیلا ہو جاتا ہے، اور یہ صرف ٹڈی، چھوٹے کیڑے اور سبز گھاس کھاتی ہے، اور زہریلے کیڑوں جیسے سانپ وغیرہ کو نہیں کھاتی، اور ورل بچھو، سانپ، گرگٹ اور گوبریلا سب کھاتا ہے، ورل کا گوشت بہت گرم ہوتا ہے، تریاق ہے، بہت تیز موٹا کرتا ہے، اسی لیے عورتیں اس کو استعمال کرتی ہیں، اور اس کی بیٹ (کا سرمہ) نگاہ کو تیز کرتا ہے، اور اس کی چربی کی مالش سے عضو تناسل موٹا ہوتا ہے (ملاحظہ ہو: تاج العروس: مادہ ورل، و لسان العرب) سابقہ فروق کی وجہ سے دونوں جگہ کے نجدی ضب اور ورل اور ہندوستان پائے جانے والے جانور جس کو گوہ یا سانڈا کہتے ہیں، ان میں واضح فرق ہے، بایں ہمہ نجدی ضب (گوہ) کھانا احادیث نبویہ اور اس علاقہ کے مسلمانوں کے رواج کے مطابق حلال ہے، اور اس میں کسی طرح کی قباحت اور کراہت کی کوئی بات نہیں، رہ گیا ہندوستانی گوہ کی حلت وحرمت کا مسئلہ تو سابقہ فروق کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیئے، اگر ہندوستانی گوہ نجاست کھاتا اور اس نجاست کی وجہ سے اس کے گوشت سے یا اس کے جسم سے بدبو اٹھتی ہے تو یہ چیز علماء کے غور کرنے کی ہے، جب گندگی کھانے سے گائے بکری اور مرغیوں کا گوشت متاثر ہو جائے تو اس کا کھانا منع ہے، اس کو اصطلاح میں جلالہ کہتے ہیں، تو نجاست کھانے والا جانور گوہ ہو یا کوئی اور وہ بھی حرام ہو گا، البتہ برصغیر کے صحرائی علاقوں میں پایا جانے والا گوہ نجد کے ضب (گوہ) کے حکم میں ہو گا۔ ضب اور ورل کے سلسلے میں نے اپنے دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور صحرائے نجد کے جانوروں کے واقف کار ہیں، سوال کیا تو انہوں نے اس کی تفصیل مختصراً یوں لکھ کر دی: نجدی ضب نامی جانور کھایا جاتا ہے، اور ورل نہیں کھایا جاتا ہے ضب کا شکار آسانی سے کیا جا سکتا ہے اور ورل کا شکار مشکل کام ہے، ضب گھاس کھاتا ہے، اور ورل گوشت کھاتا ہے، ضب چیر پھاڑ کرنے والا جانور نہیں ہے، جب کہ ورل چیر پھاڑ کرنے والا جانور ہے، ضب کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے، اور ورل دھاری دھار ہوتا ہے، ضب کی جلد کھُردری ہوتی ہے اور ورل کی جلد نرم ہوتی ہے، ضب کا سر چوڑا ہوتا ہے، اور وَرل کا سر دم نما ہوتا ہے، ضب کی گردن چھوتی ہوتی ہے، اور ورل کی گردن لمبی ہوتی ہے، ضب کی دم چھوٹی ہوتی ہے اور ورل کی دم لمبی ہوتی ہے، ضب کھُردرا اور کانٹے دار ہوتا ہے، اور ورل نرم ہوتا ہے، ضب اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور ورل بھی اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور دم سے شکار بھی کرتا ہے، ضب گوشت بالکل نہیں کھاتا، اور ورل ضب اور گرگٹ سب کھا جاتا ہے، ضب تیز جانور ہے، اور ورل تیز ترضب میں حملہ آوری کی صفت نہیں پائی جاتی جب کہ ورل میں یہ صفت موجود ہے، وہ دانتوں سے کاٹتا ہے، اور دم اور ہاتھ سے حملہ کرتا ہے، ضب ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع کاٹ کر اور ہاتھوں سے نوچ کر یا دم سے مار کرتا ہے، اور وَرل بھی ایسا ہی کرتا ہے، ضب میں کچلی دانت نہیں ہے، اور وَرل میں کچلی دانت ہے، ضب حلال ہے، اور ورل حرام، ورل کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ زہریلا جانور ہے۔ صحرائے عرب کا ضب، وَرل اور ہندوستانی گوہ یا سانڈا سے متعلق اس تفصیل کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس جانور کے بارے میں صحیح صورت حال سامنے آ جائے، حنفی مذہب میں بھینس کی قربانی جائز ہے اور دوسرے فقہائے کے یہاں بھی اس کی قربانی اس بنا پر جائز ہے کہ یہ گائے کی ایک قسم ہے، جب کہ گائے کے بارے میں یہ مشہور ہے اور مشاہدہ بھی کہ وہ پانی میں نہیں جاتی جب کہ بھینس ایسا جانور ہے جس کو پانی سے پیار اور کیچڑ سے محبت ہے اور جب یہ تالاب میں داخل ہو جائے تو اس کو باہر نکالنا مشکل ہوتا ہے، اگر بھینس کی قربانی کو گائے پر قیاس کر کے فقہاء نے جائز کہا ہے تو دونوں جگہ گوہ کے بعض فرق کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اس جنس کے جانوروں کو حلال ہونا چاہیئے، اہل علم کو فقہی تنگنائے سے ہٹ کر نصوص شرعیہ کی روشنی میں اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیئے اور عاملین حدیث کے نقطہٰ نظر کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنا چاہیئے۔ گوہ کی کئی قس میں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ بہت سی چیزیں سب میں قدر مشتر کہوں جیسے کہ قوت باہ میں اس کا مفید ہونا اس کی چربی کے طبی فوائد وغیرہ وغیرہ۔ حکیم مظفر حسین اعوان گوہ کے بارے میں لکھتے ہیں: نیولے کے مانند ایک جنگلی جانور ہے، دم سخت اور چھوٹی، قد بلی کے برابر ہوتا ہے، اس کے پنجے میں اتنی مضبوط گرفت ہوتی ہے کہ دیوار سے چمٹ جاتا ہے، رنگ زرد سیاہی مائل، مزاج گرم وخشک بدرجہ سوم … اس کی کھال کے جوتے بنائے جاتے ہیں۔ (کتاب المفردات: ۴۲۷)، ظاہر ہے کہ یہ برصغیر میں پائے جانے والے جانور کی تعریف ہے۔ گوہ کی ایک قسم سانڈہ بھی ہے جس کے بارے میں حکیم مظفر حسین اعوان لکھتے ہیں: مشہور جانور ہے، جو گرگٹ یا گلہری کی مانند لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی چربی اور تیل دواء مستعمل ہے، مزاج گرم و تر بدرجہ اول، افعال و استعمال بطور مقوی جاذب رطوبت، معظم ذکر، اور مہیج باہ ہے (کتاب المفردات: صفحہ ۲۷۵)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4320
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الضَّبِّ؟، قَالَ:" لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ضب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نہ اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4320]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سانڈے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں نہ حرام کرتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 7240، 8399) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4321
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ , فَقُرِّبَ إِلَيْهِ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ مِنْهُ، قَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ , فَرَفَعَ يَدَهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَحَرَامٌ الضَّبُّ؟، قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ"، فَأَهْوَى خَالِدٌ إِلَى الضَّبِّ فَأَكَلَ مِنْهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھنا ہوا ضب لایا گیا اور آپ کے قریب رکھا گیا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تاکہ اس سے کھائیں، تو وہاں موجود کچھ لوگوں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ضب کا گوشت ہے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا، اس پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا کہ اللہ کے رسول! کیا ضب حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن میری قوم کی زمین میں نہیں تھا، لہٰذا مجھے اس سے گھن آ رہی ہے، پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ضب کی طرف بڑھایا اور اس میں سے کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4321]
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا ضب لایا گیا اور آپ کو پیش کیا گیا۔ آپ نے اسے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا کہ حاضرین میں سے کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ضب کا گوشت ہے۔ آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ضب حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ لیکن یہ میری قوم کے علاقے (میرے وطن) میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کچھ کراہت سی محسوس ہوتی ہے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ ضب کی طرف بڑھے اور اسے کھایا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 10 (5391)، 14 (5400)، الذبائح 33 (5537)، صحیح مسلم/الذبائح 7 (1946)، سنن ابی داود/الأطعمة 28 (3794)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3241)، (تحفة الأشراف: 3504)، موطا امام مالک/الإستئذان 4 (10)، مسند احمد (4/88، 89)، سنن الدارمی/الصید 8 (2060) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4322
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ؟، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ , فَتَرَكَهُ، قَالَ خَالِدٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي أَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ". قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ , فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ. وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَكَانَ فِي حِجْرِهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ۱؎ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے (یہ ان کی خالہ تھیں) ۲؎، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ضب کا گوشت پیش کیا گیا، آپ کا معمول تھا کہ آپ کوئی چیز نہ کھاتے جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے، تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتاؤ گی کہ آپ کیا کھا رہے ہیں؟ تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ یہ ضب کا گوشت ہے، چنانچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا، خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن وہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم کی زمین میں نہیں ہوتا، اس لیے مجھے اس سے گھن آ رہی ہے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ اس حدیث کو ابن الاصم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، ابن الاصم آپ کی گود میں پلے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4322]
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کی زوجہ محترمہ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا۔ وہ میری خالہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے کا گوشت پیش کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کوئی چیز نہیں کھاتے تھے، جب تک پتا نہ چل جاتا کہ یہ کیا ہے؟ اس لیے ایک عورت نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں؟ پھر اس نے آپ کو بتا دیا کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے۔ آپ نے اسے چھوڑ دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ لیکن یہ میری قوم کے علاقے (میرے وطن) میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کچھ کراہت سی محسوس ہوتی ہے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے برتن اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (کھاتے ہوئے) دیکھ رہے تھے۔ اور (یزید) ابن الاصم رحمہ اللہ نے (یہ روایت اپنی خالہ ام المومنین) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے اس (ابن شہاب امام زہری رحمہ اللہ) کو بیان کی۔ اور وہ (ابن اصم) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ابن عباس کے دونوں بیٹے عبداللہ اور فضل اور خالد بن الولید تین کی خالہ ہیں، عبداللہ بن عباس کی والدہ کا نام لبابۃ الکبری ام الفضل ہے، اور خالد کی والدہ کا نام لبابۃ الصغریٰ بنت حارث بن حزن الھلالی ہے، رضی اللہ عنھن۔ ۲؎: ام المؤمنین خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، ابن الاصم یہ یزید بن الاصم، عمرو بن عبید بن معاویہ ہیں اور یزید میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4323
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِطًا، وَسَمْنًا، وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ مِنَ الْأَقِطِ، وَالسَّمْنِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری خالہ (ام حفید رضی اللہ عنہا) نے مجھے پنیر، گھی اور ضب دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، آپ نے پنیر اور گھی میں سے کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دی، لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کھائی گئی ۱؎ اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ ہی آپ اسے کھانے کا حکم فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4323]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میری خالہ محترمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پنیر، گھی اور سانڈے پیش کیے۔ آپ نے پنیر اور گھی تو کھا لیا لیکن سانڈے ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیے (نہ کھائے)، البتہ وہ آپ کے دسترخوان پر کھائے گئے۔ اگر یہ حرام ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھائے جاتے اور نہ آپ ان کے کھانے کا حکم دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 7 (2575)، الأطعمة 8 (5789)، 16 (5402)، الاعتصام 24 (7358)، صحیح مسلم/الذبائح 7 (1945)، سنن ابی داود/الأطعمة 28 (3793)، (تحفة الأشراف: 5448)، مسند احمد (1/254، 322، 328، 340، 247 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دوسروں نے ضب بھی کھایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4324
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضِّبَابِ؟، فَقَالَ:" أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا، وَأَقِطًا، وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ، وَالْأَقِطِ، وَتَرَكَ الضِّبَابَ تَقَذُّرًا لَهُنَّ، فَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ضب کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ام حفید (ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی پنیر اور ضب بھیجا تو آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دیا، لیکن اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ آپ اسے کھانے کا حکم دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4324]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سانڈے (کا گوشت) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، پنیر اور سانڈے بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر تو کھا لیے لیکن سانڈے ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیے، اگر یہ حرام ہوتے تو نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کھائے جاتے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کھانے کی اجازت دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4325
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا، فَأَخَذْتُ ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ عُودًا يَعُدُّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكَلُوا مِنْهَا، قَالَ: فَمَا أَمَرَ بِأَكْلِهَا، وَلَا نَهَى.
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ ٹھہرے، لوگوں کو ضب ملی، میں نے ایک ضب پکڑی اور اسے بھونا، پھر اسے لے کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے ایک لکڑی لی اور اس کی انگلیاں گنیں، پھر فرمایا: بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی شکل مسخ کر کے زمین کے کچھ جانوروں کی طرح بنا دی گئی، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا جانور ہے ۱؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں نے اس میں سے کھا لیا ہے، تو پھر نہ آپ نے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4325]
حضرت ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لوگ ایک منزل میں اترے تو انہیں بہت سے سانڈے مل گئے۔ میں نے ایک سانڈا پکڑا، اسے بھونا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی پکڑی اور اس کے ساتھ اس کی انگلیاں گننے لگے، پھر فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک قوم کو زمین کے جانوروں کی شکل میں مسخ کر دیا گیا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کون سے جانور تھے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے تو اسے کھا بھی لیا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اس کے کھانے کا حکم دیا اور نہ (اس کے کھانے سے) روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 28 (3795)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3238)، (تحفة الأشراف: 2069)، مسند احمد (4/220)، ویأتي فیما یلي: 4326، 4327 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: احتمال ہے کہ آپ کا یہ فرمان اس وقت کا ہو جب آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ مسخ کی ہوئی مخلوق تین دن سے زیادہ مدت تک باقی نہیں رہتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4326
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيُقَلِّبُهُ، وَقَالَ:" إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا".
ثابت بن یزید بن ودیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ضب لایا۔ آپ اسے دیکھنے لگے اور اسے الٹا پلٹا اور فرمایا: ایک امت کی صورت مسخ کر دی گئی تھی، نہ معلوم اس کا کیا ہوا، اور میں اس کا علم نہیں، شاید یہ اسی میں سے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4326]
حضرت ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سانڈا لے کر آیا۔ آپ اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے، پھر فرمایا: ایک قوم کی شکلیں بگاڑ دی گئی تھیں، معلوم نہیں اس کا کیا بنا؟ مجھے معلوم نہیں، شاید یہ بھی انھی میں سے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4327
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ ثَابِتِ ابْنِ وَدِيعَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَقَالَ:" إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ".
ثابت بن یزید بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ضب لایا، آپ نے فرمایا: ایک امت مسخ کر دی گئی تھی، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4327]
حضرت ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ضب لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک امت کو مسخ کر دیا گیا تھا، (یہ ان میں سے نہ ہو)۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 4225 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں