سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : الضب
باب: ضب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4327
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ ثَابِتِ ابْنِ وَدِيعَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَقَالَ:" إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ".
ثابت بن یزید بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ضب لایا، آپ نے فرمایا: ”ایک امت مسخ کر دی گئی تھی“، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4327]
حضرت ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ضب لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک امت کو مسخ کر دیا گیا تھا، (یہ ان میں سے نہ ہو)۔“ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 4225 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4327 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4327
اردو حاشہ:
(1) اس باب کے تحت آنے والی روایات سے صاف ثابت ہو رہا ہے کہ ضب حلال ہے۔ اسے بلا شک وشبہ کھایا جا سکتا ہے، البتہ آپ اس سے مالوف نہیں تھے، لہٰذا آپ کو طبعاً اچھا نہیں لگتا تھا، ورنہ آپ کے سامنے کھایا گیا، اگر حرام یا مکروہ ہوتا تو آپ کھانے نہ دیتے، البتہ آخری تین روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اس کے بارے میں شک تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ نسل نہ ہو۔ لیکن ایک صحیح روایت میں آپ نے فرمایا ہے کہ مسخ شدہ نسل تین دن سے زائد زندہ نہیں رہتی۔ معلوم ہوتا ہے، پہلے آپ کو شک تھا، پھر آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا کہ یہ مسخ شدہ نسل نہیں کیونکہ مسخ شدہ نسل تین دن سے زائد زندہ نہیں رہتی، اس لیے ان روایات میں ذکر کردہ شک کا ضب کی حلت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ سنن ابوداود کی ایک روایت، جس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے اور شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اسے سلسلة الأحادیث الصحیحة (2390) میں لائے ہیں۔ اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضب کھانے سے منع فرمایا۔ بلا شبہ حلت کی روایات اعلیٰ درجے کی صحیح اور صریح ہیں، اس لیے اس روایت کو اس دور پر محمول کیا جائے گا جب آپ کو اس کے بارے میں مسخ شدہ نسل ہونے کا شک تھا۔ اس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کنارہ کش رہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اسے کھانے کا حکم دیا نہ اس سے روکا۔ بعد ازاں جب آپ کو اس کی حلت سے آگاہ کر دیا گیا تو آپ نے صراحتاً اسے حلال قرار دیا، البتہ خود طبعاً اسے پسند نہیں فرماتے تھے، اس لیے نہیں کھایا۔ لہٰذا ممانعت اور اباحت وحلت کی روایات کے مابین تطبیق ہی بہتر ہے کہ ممانعت وکراہت کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اول دور سے ہے جبکہ اباحت واجازت کا تعلق بعد کے دور سے ہے۔ ہاں! جو طبعاً اسے ناپسند کرتا ہو اس کے حق میں یہ کراہت تنزیہ پر محمول ہوگی۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کے لیے حوالہ مذکورہ دیکھیے۔
(2) عام مترجمین ”ضب“ کے معنی ”گوہ“ کرتے ہیں لیکن یہ قطعاً صحیح نہیں ”ضب“ سانڈا ہی ہے، گوہ یا سوسمار نہیں۔ اگرچہ ان کی شکل وصورت ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے۔ ان میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ گوہ، مینڈک اور چھپکلیاں وغیرہ کھاتی ہے جبکہ سانڈا گھاس کھاتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ گوہ جسامت میں سانڈے سے بڑی ہوتی ہے۔ حدیث میں سانڈے کا گوشت کھانے کا ذکر ہے لیکن گوہ کا کوئی ذکر نہیں۔
(1) اس باب کے تحت آنے والی روایات سے صاف ثابت ہو رہا ہے کہ ضب حلال ہے۔ اسے بلا شک وشبہ کھایا جا سکتا ہے، البتہ آپ اس سے مالوف نہیں تھے، لہٰذا آپ کو طبعاً اچھا نہیں لگتا تھا، ورنہ آپ کے سامنے کھایا گیا، اگر حرام یا مکروہ ہوتا تو آپ کھانے نہ دیتے، البتہ آخری تین روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اس کے بارے میں شک تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ نسل نہ ہو۔ لیکن ایک صحیح روایت میں آپ نے فرمایا ہے کہ مسخ شدہ نسل تین دن سے زائد زندہ نہیں رہتی۔ معلوم ہوتا ہے، پہلے آپ کو شک تھا، پھر آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا کہ یہ مسخ شدہ نسل نہیں کیونکہ مسخ شدہ نسل تین دن سے زائد زندہ نہیں رہتی، اس لیے ان روایات میں ذکر کردہ شک کا ضب کی حلت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ سنن ابوداود کی ایک روایت، جس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے اور شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اسے سلسلة الأحادیث الصحیحة (2390) میں لائے ہیں۔ اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضب کھانے سے منع فرمایا۔ بلا شبہ حلت کی روایات اعلیٰ درجے کی صحیح اور صریح ہیں، اس لیے اس روایت کو اس دور پر محمول کیا جائے گا جب آپ کو اس کے بارے میں مسخ شدہ نسل ہونے کا شک تھا۔ اس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کنارہ کش رہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اسے کھانے کا حکم دیا نہ اس سے روکا۔ بعد ازاں جب آپ کو اس کی حلت سے آگاہ کر دیا گیا تو آپ نے صراحتاً اسے حلال قرار دیا، البتہ خود طبعاً اسے پسند نہیں فرماتے تھے، اس لیے نہیں کھایا۔ لہٰذا ممانعت اور اباحت وحلت کی روایات کے مابین تطبیق ہی بہتر ہے کہ ممانعت وکراہت کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اول دور سے ہے جبکہ اباحت واجازت کا تعلق بعد کے دور سے ہے۔ ہاں! جو طبعاً اسے ناپسند کرتا ہو اس کے حق میں یہ کراہت تنزیہ پر محمول ہوگی۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کے لیے حوالہ مذکورہ دیکھیے۔
(2) عام مترجمین ”ضب“ کے معنی ”گوہ“ کرتے ہیں لیکن یہ قطعاً صحیح نہیں ”ضب“ سانڈا ہی ہے، گوہ یا سوسمار نہیں۔ اگرچہ ان کی شکل وصورت ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے۔ ان میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ گوہ، مینڈک اور چھپکلیاں وغیرہ کھاتی ہے جبکہ سانڈا گھاس کھاتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ گوہ جسامت میں سانڈے سے بڑی ہوتی ہے۔ حدیث میں سانڈے کا گوشت کھانے کا ذکر ہے لیکن گوہ کا کوئی ذکر نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4327]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4327 in Urdu
البراء بن عازب الأنصاري ← ثابت بن وديعة الأنصاري