سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: حُسْنِ الذَّبْحِ
باب: ذبیحہ کو اچھی طرح ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4417
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو ہر چیز میں فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح کرو، اور تم اپنی چھریاں تیز کر لیا کرو اور جانور کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4417]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز سے حسنِ سلوک کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے، اس لیے جب تم کسی کو قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ ذبح کرنے والا شخص اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے مذبوح جانور کو راحت پہنچائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر دو باتیں یاد رکھیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو اور تم اپنی چھریاں تیز کر لو تاکہ تم اپنے جانور کو آرام دے سکو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4418]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، ذبح کرنے والا شخص اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4419
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، لِيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو۔ تم اپنی چھریاں تیز کر لو اور جانور کو آرام دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4419]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دو باتیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھیں، (آپ نے فرمایا:) ”یقینا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، ذبح کرنے والا اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبح ہونے والے جانور کو کم سے کم تکلیف پہنچائے (مطلب یہ کہ یکبارگی ذبح کرے، دیر نہ لگائے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن