🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. بَابُ: ذِكْرِ الْمُنْفَلِتَةِ الَّتِي لاَ يُقْدَرُ عَلَى أَخْذِهَا
باب: بدک کر بھاگ جانے والے جانور جس کو پکڑنا ممکن نہ ہو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4414
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ"، قَالَ: فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ لِهَذِهِ النَّعَمِ، أَوْ قَالَ: الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا , فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے اسے تیر مارا، جس سے وہ رک گیا، آپ نے فرمایا: ان جانوروں میں، یا یوں فرمایا: ان اونٹوں میں، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی (پکڑنے میں) تھکا دے، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4414]
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو گا، ہمارے پاس چھری قسم کی کوئی چیز نہیں (تو ذبح کیسے کریں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز بھی خون بہا دے اور اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کر دیا جائے تو (ایسا ذبیحہ) کھایا جا سکتا ہے، علاوہ دانت اور ناخن کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت میں اونٹ حاصل ہوئے، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا، ایک آدمی نے اس کو (پیچھے سے) تیر مارا جس سے وہ رک گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گھریلو جانور یا اونٹ بھی کبھی جنگلی جانوروں کی طرح بے قابو ہو جاتے ہیں، لہٰذا جو جانور تم سے بے قابو ہو جائے، اس سے یہی سلوک کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4415
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ"، وَأَصَبْنَا نَهْبَةَ إِبِلٍ، أَوْ غَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کل دشمن سے ملیں گے، اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: جس آلہ سے خون بہہ جائے اور وہ دانت ناخن نہ ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، اور جلد ہی میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے، پھر مال غنیمت میں ہمیں کچھ بکریاں یا اونٹ ملے، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے ایک تیر اسے مارا جس سے وہ رک گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اونٹوں میں کچھ جنگلی وحشیوں کی طرح بدکنے والے ہیں، لہٰذا جب تم کو ان میں سے کوئی تھکا دے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4415]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کل دشمن سے ہماری ملاقات ہو گی اور ہمارے پاس چھری (وغیرہ کچھ) نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز بھی خون بہا دے بشرطیکہ اللہ کا نام لیا گیا ہو، اسے کھا سکتے ہو۔ علاوہ دانت اور ناخن کے۔ اور اس کی وجہ بھی میں تمہیں بیان کرتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ ہمیں اس جنگ میں اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں حاصل ہوئیں، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا تو ایک آدمی نے تیر مار کر اسے روک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ بھی کبھی جنگلی جانوروں کی طرح بھاگ اٹھتے ہیں۔ جب وہ تم سے بے قابو ہو جائیں تو تم ان سے یہی سلوک کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4416
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ إِذَا ذَبَحَ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور جب تم ذبح کرو تو اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو اور ذبیحہ کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4416]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسنِ سلوک فرض قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم کسی کو (قصاص وغیرہ میں) قتل کرنے لگو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ اور ذبح کرتے وقت اپنی چھری کو تیز کرو اور اپنے ذبیحہ کو جلدی نجات دو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں