🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. بَابُ: ذَبَائِحِ الْيَهُودِ
باب: یہود کے ذبیحے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4440
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ، قَالَ:" دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَالْتَزَمْتُهُ، قُلْتُ: لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ , فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن چربی کی ایک مشک لٹکی ہوئی ہاتھ آئی، میں اس سے لپٹ گیا، میں نے کہا: اس میں سے میں کسی کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4440]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کا ایک تھیلا (قلعہ سے) باہر پھینکا گیا۔ میں اس سے چمٹ گیا۔ میں نے (اپنے آپ سے) کہا: میں اس سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا۔ اچانک میں مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مجھے دیکھ سن کر) مسکرا رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 20 (3153)، المغازي 38 (4214)، الصید 22 (5508)، صحیح مسلم/الجہاد 25 (1772)، سنن ابی داود/الجھاد 137 (2702)، (تحفة الأشراف: 9656)، مسند احمد (4/86 و5/55، 56)، سنن الدارمی/السیر57(2542) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چربی کو لینے سے منع نہیں کیا، حالانکہ وہ یہودیوں کے ذبیحہ سے نکلی ہوئی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا ذبیحہ جائز ہے، (سورۃ المائدہ آیت: ۵، میں بھی اس کی صراحت ہے) مگر شرط یہ ہے کہ ذبح اسلامی طریقہ پر کیا گیا ہو، ان کا مشینی ذبیحہ جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں