🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ: الاِدِّخَارِ مِنَ الأَضَاحِي
باب: قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4436
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا، وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا"، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ"؟، قَالَ: الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَتَصَدَّقُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: تو اب کیا ہوا؟ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4436]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اعرابیوں کا ایک قافلہ مدینہ منورہ آیا، ادھر قربانیوں کا وقت آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قربانیوں کا گوشت) تین دن رکھ کر کھا سکتے ہو (زائد نہیں)۔ (اس کے بعد آئندہ سال) لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی پگھلا لیا کرتے تھے اور چمڑوں سے مشکیزے بنا لیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا مطلب؟ لوگوں نے کہا: آپ نے جو قربانی کا گوشت وغیرہ رکھنے سے روک دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: میں نے تو اس قافلے کی وجہ سے روکا تھا جو (دیہات سے) آیا تھا۔ اب تم کھاؤ، جمع بھی رکھو اور صدقہ بھی کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1971)، سنن ابی داود/الضحایا 10 (2812)، (تحفة الأشراف: 17901)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (7)، مسند احمد (6/51)، سنن الدارمی/الأضاحی6 (2002) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4437
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ؟، قَالَتْ: نَعَمْ , أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ، فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، ثُمَّ قَالَت: لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: مِمَّ ذَاكَ؟ فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عابس کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرماتے تھے؟ بولیں: ہاں، لوگ سخت محتاج اور ضروت مند تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مالدار لوگ غریبوں کو کھلائیں، پھر بولیں: میں نے آل محمد (گھر والوں) کو دیکھا کہ وہ لوگ پائے پندرہ دن بعد کھاتے تھے، میں نے کہا: یہ کس وجہ سے؟ وہ ہنسیں اور بولیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک سالن روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4437]
حضرت عابس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوا اور پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا گوشت تین دن سے زائد کھانے سے روکتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، لوگ بہت تنگ تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر سمجھا کہ مال دار لوگ فقیروں کو کھلائیں، پھر فرمانے لگیں: میں نے دیکھا ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ پندرہ دن کے بعد قربانی کے جانوروں کے پائے کھاتے تھے۔ میں نے کہا: ایسے کیوں؟ ہنس کر فرمانے لگیں: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے تین دن مسلسل سالن والی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 27 (5423)، 37 (5438)، الأضاحی 16 (5570)، صحیح مسلم/الزہد 1 (2970)، سنن الترمذی/الأضاحی 14 (1511)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 16 (1511)، الأطعمة 30 (3159)، (تحفة الأشراف: 16165)، مسند احمد (6/102، 127، 136، 187، 209) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4438
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ؟، قَالَتْ:" كُنَّا نَخْبَأُ الْكُرَاعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، ثُمَّ يَأْكُلُهُ".
عابس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایک مہینے تک قربانی کے پائے رکھ چھوڑتے، پھر آپ اسے کھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4438]
حضرت عابس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک ایک ماہ تک قربانی کے پائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رکھ چھوڑتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھا لیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4439
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِمْسَاكِ الْأُضْحِيَّةِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: كُلُوا، وَأَطْعِمُوا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اٹھا کر رکھنے سے منع فرمایا پھر فرمایا: کھاؤ اور لوگوں کو کھلاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4439]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرما دیا تھا، پھر آپ نے فرمایا: (جب تک چاہو) کھاؤ اور (فقراء و مساکین کو بھی) کھلاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4295)، مسند احمد (3/57) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں