سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ: بَيْعِ الْبُرِّ بِالْبُرِّ
باب: گیہوں کے بدلے گیہوں بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4564
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ , قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَمُعَاوِيَةَ , حَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ , قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ , وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ , وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ , قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ , وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ , وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ , وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ , وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا , قَالَ أَحَدُهُمَا: فَمَنْ زَادَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى".
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ ایک دن عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما اکٹھا ہوئے، عبادہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جَو کو جَو کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے (ان میں سے ایک نے کہا: نمک کو نمک کے بدلے، دوسرے نے یہ نہیں کہا) بیچنے سے منع کیا، مگر برابر برابر اور نقدا نقد، اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے، چاندی سونے کے بدلے، گیہوں جو کے بدلے، جَو گیہوں کے بدلے نقداً نقد بیچیں جیسے بھی ہم چاہیں ۱؎ ان (دونوں تابعی راویوں) میں سے ایک نے یہ بھی کہا: ”جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4564]
حضرت مسلم بن یسار اور حضرت عبد اللہ بن عتیک رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ایک منزل میں حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما جمع ہوئے تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں سونے کے بدلے سونے، چاندی کے بدلے چاندی، گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو، کھجوروں کے بدلے کھجوریں...“ ان دونوں استادوں (مسلم بن یسار اور عبد اللہ بن عتیک) میں سے ایک نے (یہ بھی) کہا، جبکہ دوسرے نے یہ الفاظ نہیں کہے: ”...اور نمک کے بدلے نمک کے سودے سے منع فرمایا الا یہ کہ وہ دونوں برابر اور نقد ہوں، البتہ ہمیں اجازت عطا فرمائی کہ ہم سونے کو چاندی کے بدلے، چاندی کو سونے کے بدلے، گندم کو جو کے بدلے اور جو کو گندم کے بدلے جیسے چاہیں کم و بیش خرید و فروخت کر سکتے ہیں بشرطیکہ سودا نقد ہو۔ (جنس ایک ہونے کی صورت میں) جو شخص زیادہ دے یا زیادہ لے، اس نے سودی لین دین کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2254)، (تحفة الأشراف: 5113)، مسند احمد (5/320)، انظرأیضا حدیث رقم: 4565، 4566 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کمی زیادتی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں جب جنس مختلف ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح