سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ: بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4563
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّمْرُ بِالتَّمْرِ , وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ , وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ , فَمَنْ زَادَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى , إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کے بدلے کھجور، گیہوں کے بدلے گی ہوں، جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک میں خرید و فروخت نقدا نقد ہے، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا، سوائے اس کے کہ جنس بدل جائے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4563]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کا سودا کھجور کے ساتھ، گندم کا گندم کے ساتھ، جو کا جو کے ساتھ اور نمک کا نمک کے ساتھ سودا نقد (اور برابر) ہونا چاہیے۔ جو زیادہ دے یا زیادہ لے، اس نے سود کا لین دین کیا۔ الا یہ کہ جنسیں بدل جائیں۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 15 (البیوع36) (1588)، (تحفة الأشراف: 14921)، مسند احمد (2/232) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سود صرف انہی چار چیزوں میں کمی زیادتی میں نہیں ہے، بلکہ اگلی حدیث میں دو اور چیزوں کا تذکرہ ہے، نیز صرف انہی چھ کی بیع میں تفاضل سود نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی ہر چیز میں موجود ہے سوائے ان چیزوں کے جن کو شریعت نے مستثنیٰ کر دیا ہے جیسے: جانور، پس ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ بیچ سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم