🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. بَابُ: بَيْعِ الدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمِ
باب: درہم کو درہم سے بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4572
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرُ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ , لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا , هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم کی بیع میں کمی زیادتی جائز نہیں، یہ ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4572]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دینار کا سودا دینار سے ہو یا درہم کا درہم سے تو کمی بیشی جائز نہیں ہو سکتی۔ ہمارے پیارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمیں یہ تاکید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7398) (صحیح) (مجاہد کا عمر رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ نے اس کا ہمیں حکم دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4573
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ , وَزْنًا بِوَزْنٍ , مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ , وَزْنًا بِوَزْنٍ , مِثْلًا بِمِثْلٍ , فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کے بدلے سونا، برابر برابر اور یکساں ہو گا، اور چاندی کے بدلے چاندی برابر برابر اور یکساں ہو گی، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود کا کام کیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4573]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے میں تول کر برابر دیا جائے اور چاندی چاندی کے بدلے تول کر برابر دی جائے۔ جو شخص زیادہ دے یا زیادہ لے، اس نے سود کا لین دین کیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 15(البیوع36) (1588)، سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2255)، (تحفة الأشراف: 132625)، مسند احمد (2/261، 282، 437) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں