سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. بَابُ: الشَّرِكَةِ بِغَيْرِ مَالٍ
باب: مال لگائے بغیر تجارت میں حصہ دار بننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4701
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ , وَسَعْدٌ , يَوْمَ بَدْرٍ، فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ , وَلَمْ أَجِئْ أَنَا , وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چنانچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4701]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں، عمار اور سعد بدر کے دن شریک بنے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ دو قیدی لائے، جبکہ میں اور عمار کچھ نہ لائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3969 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو عبیدہ‘‘ کا اپنے باپ ’’ابن مسعود‘‘ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (3969) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
حدیث نمبر: 4702
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُتِمَّ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو جتنا حصہ باقی ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت بھر مال ہو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4702]
حضرت سالم کے والد محترم (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے تو باقی حصے کی آزادی بھی اس کے مال سے ہوگی بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس غلام کی قیمت کے برابر ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأیمان 12 (1501)، سنن ابی داود/العتق 6 (3946)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1347)، (تحفة الأشراف: 6935)، مسند احمد (2/ 34) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا تعلق اگلے باب سے ہے، کاتبوں کی غلطی سے یہ اس باب میں درج ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم