سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. بَابُ: الشَّرِكَةِ فِي الرَّقِيقِ
باب: غلام یا لونڈی میں حصہ داری اور شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4703
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، وَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَبْدِ فَهُوَ عَتِيقٌ مِنْ مَالِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت کے برابر مال ہو تو وہ اس کے مال سے آزاد ہو جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4703]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس غلام کے باقی حصے کی قیمت بن سکے تو وہ غلام (پورے کا پورا) اس کے مال سے آزاد ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشرکة 5 (2491)، العتق 4 (2522)، صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، سنن ابی داود/العتق 6 (3941)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، (تحفة الأشراف: 7511)، مسند احمد (2/15) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه